آئی ایم ایف کے اعتراضات کے باوجود حکومت کا نیا شوگر ایکسپورٹ معاہدہ

اسلام آباد – 17 جولائی 2025:
عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی واضح مخالفت کے باوجود وفاقی حکومت نے پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (PSMA) کے ساتھ ایک نیا معاہدہ کر لیا ہے، جس کے تحت 2025-26 کی کرشنگ سیزن کے بعد سات ملین میٹرک ٹن سے زائد چینی کے ذخائر کی برآمد کی اجازت دی جائے گی۔

یہ معاہدہ 14 جولائی کو وزارتِ قومی غذائی تحفظ اور طاقتور شوگر ملز ایسوسی ایشن کے درمیان خاموشی سے طے پایا۔ اس معاہدے کا مقصد یہ ہے کہ چینی کی ایکس مل قیمت 15 اکتوبر تک فی کلوگرام 165 سے 171 روپے کے درمیان برقرار رکھی جائے۔ یاد رہے، چند ماہ قبل حکومت نے 765,000 میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی، جس کے بعد مقامی مارکیٹ میں قیمتیں 200 روپے فی کلو تک پہنچ گئیں۔

اس فیصلے کے بعد حکومت نے چینی کی ٹیکس فری درآمد کی اجازت دی، جس پر آئی ایم ایف نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ بدھ کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال نے تسلیم کیا کہ آئی ایم ایف نے حکومت کی جانب سے دی گئی ٹیکس چھوٹ پر اعتراض اٹھایا ہے۔

انہوں نے بتایا، "آئی ایم ایف پروگرام میں تقریباً 70 اہداف شامل ہیں، جن میں ایک واضح شرط یہ ہے کہ کسی قسم کی ٹیکس چھوٹ نہیں دی جا سکتی۔ یہ ایک واضح خلاف ورزی ہے۔” ان کے مطابق، اس معاملے پر آئی ایم ایف سے بات چیت جاری ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ چینی پر ٹیکس ختم کرنے کے لیے جاری کردہ تین قانونی احکامات (SROs) کو واپس لے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی ایک رپورٹ کے مطابق، یہ اقدام 7 ارب ڈالر کے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے جس میں محصولات اور سبسڈی سے متعلق سخت شرائط شامل ہیں۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے چیئرمین رشید لنگریال نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ چینی پر مجموعی درآمدی ڈیوٹی 53 فیصد ہے، جس سے یہ عوام کے لیے ناقابلِ برداشت بن جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس چھوٹ سے چینی کی قیمت میں 82 روپے فی کلو کمی لانے کی کوشش کی گئی۔

شروع میں ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (TCP) نے 3 لاکھ میٹرک ٹن چینی درآمد کرنے کی بولی دی تھی، لیکن آئی ایم ایف کے اعتراضات کے بعد یہ ہدف کم کر کے صرف 50 ہزار ٹن کر دیا گیا اور بولی کی آخری تاریخ 22 جولائی تک بڑھا دی گئی۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں رکن قومی اسمبلی جاوید حنیف نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بجٹ اجلاسوں میں آئی ایم ایف کو جواز بناتی ہے، لیکن بعد میں خود انہی معاہدوں کی خلاف ورزی کرتی ہے۔

پیپلز پارٹی کی نفیسہ شاہ نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "ایسا لگتا ہے کہ مفاد پرست حلقے آئی ایم ایف سے بھی زیادہ طاقتور ہو چکے ہیں۔”

نئے معاہدے کے مطابق، سات ملین میٹرک ٹن سے زائد چینی، جس میں غیر استعمال شدہ درآمدی چینی بھی شامل ہو سکتی ہے، کرشنگ سیزن کے اختتام کے 30 دن بعد برآمد کی جا سکے گی۔ اس ذخیرے کی تصدیق FBR کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم سے ہوگی اور ایک چار رکنی کمیٹی نگرانی کرے گی، جس میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کے نمائندے اور PSMA کے دو افراد شامل ہوں گے۔

تاہم، معاہدے میں موجود قیمت مقرر کرنے کی شق قانونی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ اس کے تحت 15 جولائی 2025 سے چینی کی ایکس مل قیمت 165 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے، جو ہر ماہ 2 روپے کے حساب سے بڑھتی جائے گی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ شق کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان (CCP) کے قوانین سے متصادم ہے اور شوگر مل مالکان کو غیر معمولی فائدہ دیتی ہے۔

صنعتی ماہرین کے مطابق، گزشتہ سال برآمدی اجازت سے قبل چینی کی قیمت 140 روپے فی کلو سے بھی کم تھی۔ اب نئی مقرر کردہ قیمتوں کے تحت، ریٹیل منافع کو شامل کیے بغیر بھی شوگر ملز کو بھاری فائدہ حاصل ہوگا۔

قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سید نوید قمر نے واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا، "حکومت کو چینی کے کاروبار سے مکمل طور پر نکل جانا چاہیے۔ ہمیں شوگر ملوں کے لیے لائسنسنگ کا نظام بھی ختم کرنا ہوگا اور چینی کی درآمد بند کرنی چاہیے۔ یہ مارکیٹ کو غلط پیغام دیتا ہے۔”

انہوں نے کہا کہ جس طرح گندم کو ڈی ریگولیٹ کیا گیا ہے، اسی طرح چینی کو بھی کرنا چاہیے۔ "ملک میں چینی کے وافر ذخائر موجود ہیں، درآمد کی کوئی ضرورت نہیں،” انہوں نے کہا۔

دیگر قانون سازی پر بھی غور

شوگر پر بحث کے ساتھ ساتھ کمیٹی نے دو اہم نجی بلوں کا بھی جائزہ لیا:

  • کارپوریٹ سوشل ریسپانسبیلٹی (CSR) بل، جو نفیسہ شاہ نے پیش کیا
  • پارلیمانی بجٹ نگرانی بل، جو ایم این اے رانا اردات شریف خان کی جانب سے پیش کیا گیا۔

CSR بل کے تحت کمپنیوں کو اپنے خالص منافع کا ایک فیصد سماجی فلاح و بہبود پر خرچ کرنے کا پابند بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔ وزارت خزانہ نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے کاروبار پر لاگت بڑھے گی، لیکن کمیٹی کے اراکین نے اس مؤقف کو مسترد کر دیا۔ نفیسہ شاہ نے دلیل دی کہ "یہ سیلز پر نہیں بلکہ خالص منافع پر ہے، اور پہلے سے ہی کئی کمپنیاں 1.5 فیصد تک CSR پر خرچ کر رہی ہیں۔”

وزارت نے مشاورت کے لیے ایک ماہ کی مہلت مانگی، لیکن کمیٹی نے اسے غیر ضروری قرار دیا۔

دوسری طرف، بجٹ نگرانی کے بل پر بھی بیوروکریسی نے تحفظات ظاہر کیے، تاہم نوید قمر نے کہا، "یہ بل بیوروکریسی کے مضبوط قلعوں کو چیلنج کرتا ہے، لیکن شفافیت اور احتساب کے لیے یہ قانون سازی ضروری ہے۔”

 

More From Author

پاکستان اور چین کا اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کا عزم، بیجنگ کا زرعی و معدنی شعبوں میں تعاون کی پیشکش

کراچی یونیورسٹی کے پروفیسر پر رینجرز اہلکار کا مبینہ تشدد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے