کراچی – 4 اگست 2025
1936 میں معروف برطانوی ماہرِ معیشت جان مینارڈ کینز نے ایک بات کہی تھی جو آج پاکستان کی صورتحال پر حیرت انگیز حد تک صادق آتی ہے۔ اپنی مشہور کتاب The General Theory of Employment, Interest and Money کے آخری باب میں انہوں نے لکھا:
"عملی لوگ، جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کسی فکری اثر سے آزاد ہیں، درحقیقت کسی مردہ معیشت دان کے غلام ہوتے ہیں۔”
یہ بات آج پاکستان کی معاشی پالیسی بنانے والوں پر پوری اترتی ہے — جو دہائیوں سے ان معاشی اصولوں سے چمٹے ہوئے ہیں جو بین الاقوامی مالیاتی ادارے، خصوصاً آئی ایم ایف، نے متعارف کروائے تھے۔ ان اصولوں کی بنیاد جس نظریے پر رکھی گئی، اسے واشنگٹن کنسنس کہا جاتا ہے۔
واشنگٹن کنسنس: نظریہ یا زنجیر؟
یہ تصور سب سے پہلے ماہرِ معیشت جان ولیم سن نے پیش کیا تھا۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ ترقی پذیر ممالک کے لیے چند عمومی معاشی اصول ترتیب دیے جائیں، جن پر حالات کے مطابق لچکدار طریقے سے عمل کیا جائے۔ ان اصولوں میں مالیاتی نظم و ضبط، نجکاری، تجارت کی آزادی اور ضابطوں کی کمی شامل تھے۔
لیکن افسوس کہ جو بات محض رہنمائی کے لیے کہی گئی تھی، وہ بعد میں بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ہاتھوں جامد نظریہ بن گئی — ایک ایسا فارمولہ جو ہر ملک پر یکساں انداز میں مسلط کیا جانے لگا، چاہے وہاں کے حالات کچھ بھی ہوں۔
پاکستان بھی ان پالیسیوں کی زد میں آنے والے ممالک میں نمایاں رہا ہے۔
اعداد و شمار کی زبانی کہانی
اگر ہم تاریخ کا جائزہ لیں تو 1962 میں پاکستان کا فی کس جی ڈی پی 90 ڈالر تھا، جبکہ چین کا صرف 70 ڈالر۔ 1970 اور 1980 کی دہائیوں تک پاکستان برتری برقرار رکھے رہا۔ لیکن 1990 کے بعد چین نے ترقی کی ایسی دوڑ لگائی کہ آج اس کا فی کس جی ڈی پی پاکستان سے آٹھ گنا زیادہ ہو چکا ہے۔
یہ فرق محض اتفاق نہیں، بلکہ دو بالکل مختلف معاشی راستوں کا نتیجہ ہے — پاکستان کی آئی ایم ایف کے مشوروں پر مبنی معاشی پالیسی، اور چین کا بیجنگ کنسنس۔
پاکستان میں واشنگٹن کنسنس کا انجام
پاکستان نے پچھلی کئی دہائیوں میں واشنگٹن کنسنس کے بیشتر اصولوں پر عمل کیا، لیکن نتائج حوصلہ شکن رہے:
- مالیاتی نظم و ضبط: خسارے پر قابو پانے کی کوششیں ہوئیں، مگر قرضے بڑھتے رہے اور ترقیاتی اخراجات کم ہوتے گئے۔
- ٹیکس اصلاحات: ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کی کوشش کی گئی، لیکن غیر رسمی معیشت اور ٹیکس چوری نے اس عمل کو ناکام بنایا۔
- نجکاری اور ضابطوں میں نرمی: کچھ شعبوں میں بہتری آئی، لیکن کئی ادارے کرپشن، بے روزگاری اور عوامی ردعمل کا شکار ہوئے۔
- تجارت کی آزادی: درآمدی محصولات کم کیے گئے، مگر مقامی صنعتوں کو تحفظ نہ مل سکا، جس سے تجارتی خسارے میں اضافہ ہوا۔
- غیر ملکی سرمایہ کاری: سیاسی غیر یقینی، پالیسیوں کا تسلسل نہ ہونا، اور کمزور انفراسٹرکچر نے سرمایہ کاروں کو دور رکھا۔
نتیجہ؟ پاکستان کی معیشت کا اوسط ترقیاتی شرح محض 3 فیصد رہی — جبکہ کم از کم 7 فیصد شرح درکار تھی تاکہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکیں اور غربت کم ہو۔
چین کا ماڈل: بیجنگ کنسنس
دوسری جانب، چین نے ایک بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا۔ اس کا ماڈل ریاستی قیادت پر مبنی تھا — جس میں اصلاحات مرحلہ وار کی گئیں اور عوامی فلاح کو اولین ترجیح دی گئی:
- ریاست کا کلیدی کردار: توانائی اور مالیاتی شعبے جیسے اہم سیکٹرز ریاست کے کنٹرول میں رہے۔
- مرحلہ وار اصلاحات: اچانک تبدیلیوں کے بجائے بتدریج تبدیلیاں کی گئیں تاکہ نظام میں استحکام رہے۔
- غربت کا خاتمہ: ترقی کو صرف جی ڈی پی سے نہیں ناپا گیا، بلکہ عوام کے معیارِ زندگی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو بھی مدنظر رکھا گیا۔
- برآمدی معیشت: مینوفیکچرنگ اور تجارت کو فروغ دیا گیا، خاص معاشی زونز بنائے گئے، سبسڈی دی گئی، اور افرادی قوت کو تربیت دی گئی۔
- میرٹ پر مبنی بیوروکریسی: افسران کی ترقی کارکردگی سے مشروط رہی، جس نے بہتری کی ترغیب دی۔
نتیجہ؟ 2000 سے اب تک چین نے 40 کروڑ سے زائد افراد کو انتہائی غربت سے نکالا۔ غربت کی شرح 40 فیصد سے کم ہو کر اب صرف 10 فیصد رہ گئی ہے۔ اس کے برعکس، پاکستان میں غربت 2000 میں 35 فیصد تھی، اور آج 2025 میں یہ بڑھ کر 45 فیصد ہو چکی ہے۔
نتیجہ: ہمیں کس طرف جانا ہے؟
پاکستان کا تجربہ یہ ثابت کرتا ہے کہ معاشی ترقی کے لیے صرف بین الاقوامی فارمولوں پر انحصار نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ آئی ایم ایف کے نافذ کردہ سخت اور غیر لچکدار اصلاحات نے ہماری معیشت کو وہ نتائج نہیں دیے جن کی توقع کی گئی تھی۔
اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اپنی معاشی راہوں پر نظرثانی کرے۔ ترقی کا مطلب صرف بڑے بڑے اعداد نہیں، بلکہ اس کا مقصد روزگار پیدا کرنا، عدم مساوات کو کم کرنا، اور عوام کی زندگی بہتر بنانا ہونا چاہیے۔ پالیسیاں زمینی حقائق، مقامی ضروریات، اور عوامی فلاح پر مبنی ہونی چاہییں — نہ کہ بیرونی دباؤ یا عالمی مالیاتی اداروں کے فرسودہ نسخوں پر۔
ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا: ہم کب تک دوسروں کے لکھے ہوئے معاشی نسخے آزماتے رہیں گے؟ اور کیا اب وقت نہیں آ گیا کہ ہم اپنی ترقی کی کہانی خود لکھیں؟