حیدرآباد:
پنجاب شدید سیلابی صورتحال سے دوچار ہے اور اب سندھ بھی ایک بڑے پانی کے ریلے کے خطرے کی تیاری کر رہا ہے، جو دریا کنارے بستیوں میں رہنے والے لاکھوں افراد کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ میدانی علاقوں کے رہائشی براہِ راست متاثر ہونے کے امکانات کم ہیں۔
سندھ کے وزیرِ آبپاشی جام خان شورو نے جمعرات کو سکھر میں صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ آبپاشی کے محکمے اور ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ صورتحال کا بروقت سامنا کیا جا سکے۔
“یقیناً سندھ کی کچے کے علاقے متاثر ہوں گے۔ پنجاب میں اچانک دریاؤں میں پانی کی سطح میں جو اضافہ دیکھا گیا ہے، اسی طرح کے حالات یہاں بھی پیدا ہو سکتے ہیں،” جام خان شورو نے خبردار کیا۔
محکمہ آبپاشی کے پرانے تخمینوں کے مطابق، 2015 میں دریا کے کنارے قائم بستیوں میں تقریباً 4 لاکھ 14 ہزار افراد آباد تھے۔ اگرچہ حالیہ اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے، لیکن حکام کا کہنا ہے کہ اب یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
وزیر آبپاشی نے مزید بتایا کہ پنجاب میں محض 13 گھنٹوں کے اندر پانی کی آمد میں سات لاکھ کیوسک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ گڈو بیراج تک پہنچنے والے پانی کا تخمینہ کتنا ہے۔
پانی کا یہ ریلا پنجاب کے دریاؤں — چناب، راوی اور ستلج — سے نکل کر چہراں شریف کے مقام پر، جو پنجند سے 60 کلومیٹر نیچے ہے، آپس میں ملے گا اور پھر سندھ میں داخل ہوگا۔ جام خان شورو کا کہنا تھا کہ جب یہ تمام ریلا پنجند پر جمع ہوگا تو ہی درست اعداد سامنے آئیں گے کہ سندھ میں کتنا پانی داخل ہوگا۔ اندازہ ہے کہ یہ ریلہ 2 یا 3 ستمبر کو گڈو بیراج تک پہنچے گا۔
آبپاشی محکمہ صوبے بھر میں دریاؤں کے بہاؤ پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کچے کے علاقوں کے مکینوں کو کم از کم دو روز پہلے آگاہ کر دیا جائے گا، تاہم اس بات کا بھی اعتراف کیا گیا کہ اکثر مقامی افراد سرکاری وارننگ کے باوجود نقل مکانی سے گریز کرتے ہیں اور اپنی ذاتی رائے پر زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔