کراچی – 4 اگست 2025:
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے اتوار کے روز کراچی میں ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح اور یومِ آزادی کی تقریبات کے سلسلے میں منعقدہ خواتین موٹربائیک ریلی کے ذریعے قومی جذبے اور شہری ترقی کے عزم کا بھرپور مظاہرہ کیا۔
دن کا مرکزی اور سب سے نمایاں واقعہ لیاری میں ملیر یونین فٹبال اسٹیڈیم کا باضابطہ افتتاح تھا — ایک ایسا منصوبہ جس کا علاقے کے کھیلوں سے وابستہ نوجوان طویل عرصے سے انتظار کر رہے تھے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سندھ کے وزیرِ بلدیات سعید غنی نے کہا کہ پیپلز پارٹی شہری ترقی کے عمل کو صرف دیہی علاقوں تک محدود نہیں رکھنا چاہتی، بلکہ کراچی جیسے بڑے شہروں کو بھی یکساں اہمیت دی جا رہی ہے۔
’’ہم صرف دیہی علاقوں کی ترقی پر کام نہیں کر رہے، بلکہ شہری مراکز کو بھی جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے اربوں روپے کے منصوبے جاری ہیں، جو رواں مالی سال میں مکمل ہو جائیں گے،‘‘ وزیر بلدیات نے کہا۔
ان کا کہنا تھا کہ اسٹیڈیم کے ساتھ ساتھ متعدد کمیونٹی سینٹرز اور دیگر انفراسٹرکچر منصوبے بھی ملیر میں شروع کیے گئے ہیں، جن کا مقصد عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنا اور نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا ہے۔
دن کے آغاز میں ایک اور پرجوش منظر اس وقت دیکھنے کو ملا جب سیکڑوں خواتین بائیکرز قائدِ اعظم ہاؤس کے سامنے جمع ہوئیں اور 29 کلومیٹر طویل موٹربائیک ریلی میں حصہ لیا، جس کا اختتام چوکنڈی کے تاریخی مقبروں پر ہوا۔
یہ ریلی وزیرِ بلدیات سعید غنی اور سندھ کے وزیر برائے سیاحت و ثقافت سید ذوالفقار علی شاہ نے مشترکہ طور پر روانہ کی۔
ریلی صرف ایک سفر نہیں تھی، بلکہ خواتین کی خودمختاری، قومی اتحاد اور سماجی منظرنامے میں ان کے بڑھتے ہوئے کردار کی ایک توانا علامت کے طور پر دیکھی گئی۔
وزیر ذوالفقار شاہ نے کہا، ’’یہ ریلی صرف یومِ آزادی کی تقریب نہیں، بلکہ شہید بے نظیر بھٹو کے وژن اور جدوجہد کو خراجِ تحسین ہے — جو پاکستان کی خواتین کے لیے قیادت اور حوصلے کی علامت ہیں۔ آج وہی مشعل عاصفہ بھٹو کے ہاتھ میں ہے۔‘‘
ریلی کے دوران خواتین بائیکرز نے پاکستانی پرچم لہرائے، ثقافتی لباس زیب تن کیے اور پرجوش انداز میں شہر کی سڑکوں پر دوڑتی نظر آئیں — جسے دیکھ کر شہریوں نے تالیاں بجا کر ان کا خیرمقدم کیا۔ ان کا اعتماد، انداز اور موجودگی کئی دقیانوسی تصورات کو چیلنج کرتا نظر آیا۔اسٹیڈیم کا افتتاح اور خواتین کی ریلی، دونوں تقریبات نہ صرف پیپلز پارٹی کے ترقیاتی وژن کا اظہار تھیں، بلکہ یہ اس بات کا ثبوت بھی تھیں کہ شہر کراچی میں ترقیاتی کام کے ساتھ ساتھ سماجی تبدیلی اور صنفی برابری کی کوششیں بھی ساتھ ساتھ چل رہی ہیں