پاکستان ریلوے اس ہفتے لاہور اور کراچی کے درمیان ایک نئی بزنس ٹرین شروع کرنے جا رہا ہے جس کا مقصد مسافروں کو آرام دہ، جدید اور ڈیجیٹل سہولیات سے مزین سفر فراہم کرنا ہے۔
حکام کے مطابق اس بزنس ٹرین میں 28 کوچز شامل ہوں گی جنہیں ڈیجیٹل سہولیات سے آراستہ کیا گیا ہے، جبکہ مسافروں کو مفت وائی فائی کی سہولت بھی میسر ہوگی۔ اس کے علاوہ اس ٹرین میں بین الاقوامی معیار کا ڈائننگ کار بھی موجود ہوگا، جو پاکستان ریلوے کی طویل مسافت کی خدمات کو جدید بنانے کی سمت ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔
لاہور اور کراچی کا یہ روٹ ملک کے دو سب سے بڑے شہروں کو آپس میں ملاتا ہے اور ہمیشہ سے کاروباری اور عام مسافروں کی بڑی تعداد کی وجہ سے انتہائی مصروف رہا ہے۔
ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ نئی بزنس ٹرین کو عالمی معیار کے مطابق ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ مسافروں کو زیادہ آرام دہ اور بہتر سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں جو موجودہ روایتی خدمات کے مقابلے میں ایک نمایاں بہتری ہوگی۔
ساتھ ہی پاکستان ریلوے 11 مزید ٹرینوں کی آپریشنل ذمہ داری پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کرنے کی تیاری بھی کر رہا ہے، جو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) ماڈل کے تحت چلائی جائیں گی۔ حکام کا موقف ہے کہ اس اقدام سے ریلوے خدمات کے معیار میں بہتری آئے گی، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے کم آمدنی والے مسافروں پر منفی اثر پڑ سکتا ہے جو سستے سفری ذرائع پر انحصار کرتے ہیں۔
سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بھی اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ پرائیویٹ آپریشنز سے کرایوں میں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے غریب اور متوسط طبقے کے مسافروں کا سفر مزید مشکل ہو جائے گا۔ تاہم ریلوے حکام پر امید ہیں کہ مجموعی طور پر یہ قدم مسافروں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔ پاکستان میں ریل سفر اب بھی عوام خصوصاً غریب اور متوسط طبقے کے لیے ایک سستا اور پسندیدہ ذریعہ آمدورفت ہے۔ اندازوں کے مطابق روزانہ تقریباً ایک لاکھ افراد ٹرینوں کے ذریعے سفر کرتے ہیں، جن میں سے زیادہ تر کراچی کو پنجاب کے مختلف شہروں سے ملانے والی اہم ٹرینوں پر انحصار کرتے ہیں