کراچی – 13 جولائی 2025: کراچی کے شہریوں کو اگلے مون سون سسٹم کے لیے تیار رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے، کیونکہ محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ شہر میں 15 سے 17 جولائی کے درمیان ہلکی بارش کے ساتھ ہوا اور گرج چمک کے امکانات موجود ہیں۔
ہفتے کے اختتام پر شہر میں سورج اور گرمی کا راج برقرار رہا، تاہم سمندری ہوائیں جزوی طور پر بحال ہو چکی ہیں، جس سے موسم میں کچھ بہتری آئی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق، اتوار تک سمندری ہوائیں مکمل طور پر بحال ہو جائیں گی، جس کے بعد صبح اور رات کے وقت ہلکی بوندا باندی کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آنے والا بارش کا سسٹم سندھ کے بیشتر علاقوں کو متاثر کرے گا۔ تھرپارکر، میرپور خاص، سانگھڑ، سکھر، لاڑکانہ، دادو، جیکب آباد، خیرپور، شہید بینظیرآباد اور حیدرآباد میں 15 سے 17 جولائی کے دوران وقفے وقفے سے تیز ہواؤں کے ساتھ درمیانی درجے کی بارش متوقع ہے۔
ادھر ملک کے دیگر حصوں میں بھی موسمیاتی سرگرمیاں بڑھنے لگی ہیں۔ 13 جولائی سے مرطوب ہوائیں پاکستان میں داخل ہو رہی ہیں، جو رفتہ رفتہ شدت اختیار کریں گی۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ ہفتے کی شام ایک نیا ویسٹرن ویو (مغربی سسٹم) بھی ملک میں داخل ہو گا، جو موسمی شدت کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اسی نظام کے زیر اثر بلوچستان کے شمال مشرقی اور جنوبی علاقوں میں 13 سے 16 جولائی کے دوران کہیں کہیں گرج چمک کے ساتھ موسلا دھار بارش کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ ان بارشوں کے باعث برساتی نالوں، دریاؤں اور شہری نالوں میں طغیانی اور مقامی سیلاب کا خطرہ ہے، خاص طور پر مری، گلیات، مانسہرہ، ایبٹ آباد، کوہستان، چترال، دیر، سوات اور شانگلہ کے علاقوں میں۔
مزید برآں، خیبر پختونخوا، کشمیر، مری اور گلگت بلتستان کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
اسلام آباد، راولپنڈی، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، فیصل آباد، نوشہرہ اور پشاور سمیت نشیبی شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کا امکان ہے، جہاں پانی جمع ہونے کی صورت میں معمولات زندگی متاثر ہو سکتے ہیں۔
انتظامیہ نے متاثرہ علاقوں کے شہریوں کو محتاط رہنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت جاری کی ہے، جبکہ ریسکیو اداروں کو بھی الرٹ رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔