11 جولائی 2025 – سان فرانسسکو
ویب براؤزنگ کی دنیا میں جلد ہی ایک بڑی تبدیلی آنے والی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے میدان میں معروف ادارہ اوپن اے آئی اپنا خود کا ویب براؤزر متعارف کرانے جا رہا ہے، جو ماہرین کے مطابق گوگل کروم کی برسوں پر محیط اجارہ داری کو حقیقی چیلنج دے سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق، یہ نیا براؤزر آنے والے چند ہفتوں میں لانچ کیا جائے گا۔ مگر یہ عام براؤزر نہیں ہوگا — اس کی بنیاد مصنوعی ذہانت اور چیٹ جی پی ٹی کے طاقتور چیٹ انٹرفیس پر رکھی گئی ہے۔ اوپن اے آئی کا مقصد صرف ویب براؤزنگ کو آسان بنانا نہیں، بلکہ اس کا طریقہ ہی بدل دینا ہے۔
چیٹ کے ذریعے براؤزنگ کا نیا انداز
اس براؤزر کا مرکزی فیچر ایک چیٹ بیسڈ انٹرفیس ہوگا — تصور کریں کہ آپ ویب پر کچھ تلاش کرنے کے بجائے، صرف سوال پوچھیں اور جواب حاصل کرلیں۔ نہ لنکس کھولنے کی ضرورت، نہ ٹیبز میں الجھنے کی۔ یہ سب کچھ ایک مربوط، سادہ اور خودکار تجربے کے ذریعے ممکن ہوگا۔
اور یہ صرف تکنیکی جدت نہیں — یہ ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی ہے۔
اوپن اے آئی کے قریب ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر اس نئے براؤزر نے چیٹ جی پی ٹی کے 50 کروڑ ہفتہ وار صارفین کا صرف ایک حصہ بھی اپنی طرف متوجہ کر لیا، تو گوگل کی سب سے قیمتی چیز — صارفین کا ڈیٹا — خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
گوگل کی بنیادوں پر وار
یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ گوگل کے لیے کروم محض ایک براؤزر نہیں بلکہ ایک ڈیٹا انجن ہے۔ یہ صارفین کی سرگرمیوں کو ٹریک کر کے انہیں گوگل کی سروسز اور اشتہارات کی دنیا میں لاتا ہے، جس سے کمپنی کو سالانہ اربوں ڈالر کی آمدن ہوتی ہے۔
ایسے میں اوپن اے آئی کی جانب سے ایک AI براؤزر کی لانچ، گوگل کی اس ڈیجیٹل معیشت پر براہِ راست ضرب ثابت ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق، اوپن اے آئی کے اس براؤزر میں چیٹ جی پی ٹی جیسا ماحول ہوگا، جس میں صارفین کو ویب سائٹس پر جانے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی — زیادہ تر جوابات اور معلومات براہِ راست AI فراہم کرے گا۔
ڈیٹا، اعتماد اور مستقبل
اوپن اے آئی پہلے ہی متعدد AI پراڈکٹس، جیسے وائس اسسٹنٹس اور انٹرپرائز ٹولز، متعارف کرا چکا ہے۔ اب براؤزر کے ذریعے وہ صارفین کے انٹرنیٹ رویے کو سمجھنے اور اپنی AI ماڈلز کو مزید بہتر بنانے کے قابل ہو جائے گا۔
ٹیک تجزیہ کار ثناء ملک کے مطابق، وقت کا انتخاب بھی اہم ہے۔
“آج کل لوگ زیادہ پرائیویسی، زیادہ ذاتی نوعیت کی معلومات، اور زیادہ سمارٹ فیچرز چاہتے ہیں۔ روایتی براؤزر اب پرانے ہو چکے ہیں۔ اوپن اے آئی اس خلا کو پُر کرنے کی پوری تیاری میں ہے — اور شاید وہ صحیح سمت میں جا رہے ہیں۔”
کیا ہم انٹرنیٹ کے نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں؟
اگرچہ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہ براؤزر کروم کا متبادل بن سکے گا یا نہیں، لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اوپن اے آئی کے پاس وہ چیز ہے جو باقی براؤزرز کے پاس نہیں تھی: عوام کا اعتماد۔
چیٹ جی پی ٹی کو لوگ روزمرہ کاموں، ای میلز، تحریروں، اور یہاں تک کہ پروگرامنگ کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ اگر یہی بھروسا ویب براؤزنگ میں بھی منتقل ہو جائے، تو انٹرنیٹ کی دنیا میں واقعی انقلاب آ سکتا ہے۔ فی الحال، سب کی نظریں اوپن اے آئی پر لگی ہیں — اور یقیناً، گوگل بھی پوری توجہ سے یہ سب دیکھ رہا ہے