شہر میں جاری پانی چوری کے خلاف کارروائیوں کے سلسلے میں کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن (KW&SC) اور رینجرز نے مشترکہ آپریشن کرتے ہوئے منگھوپیر کے علاقے میں منظم پانی چوری کے نیٹ ورک پر ہاتھ ڈال دیا۔
واٹر بورڈ کے اینٹی واٹر تھیفٹ سیل کے مطابق، رمضان گوٹھ اور زیبو گوٹھ میں غیرقانونی پانی کی لائنیں نصب کی گئی تھیں، جو مین سپلائی سے پانی چوری کر رہی تھیں۔ ٹیم نے ان ناجائز کنکشنز کا سراغ لگا کر فوری طور پر انہیں منقطع کر دیا۔
حکام کے مطابق، اگلا ہدف پختون آباد ہو گا، جہاں منظم طریقے سے پانی چوری کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ واٹر بورڈ نے نہ صرف پانی چوری میں ملوث افراد کی نشاندہی کی ہے بلکہ ان کے سیاسی سرپرستی سے متعلق شواہد بھی جمع کر لیے ہیں۔ اگرچہ ان افراد کے خلاف پہلے بھی مقدمات درج ہو چکے ہیں، مگر پانی چوری کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق اس غیر قانونی دھندے میں شامل کچھ اہم ناموں میں گل داد، میاں داد، عبیداللہ اور پرویز ماما شامل ہیں۔
ان افراد کا طریقہ واردات کچھ یوں ہے کہ یہ سرکاری پانی کی لائنوں پر غیرقانونی کنکشن لگا کر پانی اپنے گھروں میں بنائے گئے بڑے بڑے زیرزمین ٹینکوں میں ذخیرہ کرتے ہیں، اور پھر یہ پانی ٹینکروں کے ذریعے مختلف علاقوں میں تجارتی بنیادوں پر فروخت کیا جاتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں صرف شروعات ہیں۔ پانی کے منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے اور قومی خزانے کو نقصان سے بچانے کے لیے ایسے جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خلاف آپریشنز میں مزید شدت لائی جائے گی۔ تحقیقات کا دائرہ بھی وسیع کیا جا رہا ہے، اور جلد مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔