(8 اکتوبر 2025) — ورلڈ بینک نے پاکستان کی نازک معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ حالیہ سیلابوں کے اثرات کے باعث معاشی ترقی کی رفتار مزید سست ہو سکتی ہے جبکہ مہنگائی میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ ادارے کے مطابق زرعی شعبہ، جو ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے، بدترین متاثر ہوا ہے۔
اپنی تازہ رپورٹ میں ورلڈ بینک نے پیش گوئی کی ہے کہ پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) رواں مالی سال 2025-26 میں صرف 2.6 فیصد تک محدود رہے گی، جو حکومت کے 4.2 فیصد کے ہدف سے خاصی کم ہے۔ ادارہ امید ظاہر کرتا ہے کہ اگلے مالی سال میں شرحِ نمو معمولی بہتری کے ساتھ 3.6 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، تاہم رپورٹ کے مطابق معیشت کی بحالی اب بھی موسمیاتی تباہ کاریوں، کمزور مالی نظم و ضبط اور سپلائی چین کے مسائل سے خطرے میں رہے گی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیلابی نقصانات کے باعث پنجاب جو ملک کا سب سے بڑا زرعی صوبہ ہے — میں زرعی پیداوار 10 فیصد کم ہو گئی ہے۔ چاول، گنا، کپاس، گندم اور مکئی جیسی اہم فصلیں بری طرح متاثر ہوئیں، جس کے نتیجے میں غذائی اجناس کی قلت اور مہنگائی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ رواں مالی سال میں مہنگائی کی شرح 7 فیصد سے تجاوز کر سکتی ہے۔
ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان کا مالی خسارہ 5.5 فیصد تک بڑھنے کا امکان ہے، جس کی بڑی وجوہات کم ٹیکس آمدنی، سیلاب سے بحالی پر زیادہ اخراجات اور سماجی تحفظ کے پروگراموں میں اضافہ ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پائیدار معاشی بہتری کے لیے زرعی شعبے کی بحالی، بہتر گورننس اور مالی نظم و ضبط انتہائی ضروری ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اگر ترسیلاتِ زر کا تسلسل برقرار رہا اور مہنگائی پر قابو پایا گیا تو پاکستان میں غربت کی شرح 44 فیصد سے گھٹ کر اگلے سال 43 فیصد تک آ سکتی ہے۔ تاہم ادارے نے واضح کیا ہے کہ حقیقی بہتری کے لیے محصولات میں اضافہ، غیر ضروری اخراجات میں کمی اور تجارتی اصلاحات ناگزیر ہیں۔
ورلڈ بینک نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا کہ حکومت کے پانچ سالہ اقتصادی اصلاحاتی منصوبے کے تحت محصولات میں کمی سے برآمدات میں بہتری ممکن ہے، اگرچہ سیلابی نقصانات کے باعث برآمدی حجم میں عارضی کمی آسکتی ہے۔ تاہم رپورٹ کے مطابق ترسیلاتِ زر اور کم تیل کی قیمتیں پاکستان کے بیرونی توازن کو کچھ حد تک مستحکم رکھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
مجموعی طور پر ورلڈ بینک کی رپورٹ پاکستان کی معیشت کے بارے میں ایک محتاط مگر حقیقت پسندانہ تصویر پیش کرتی ہے — ایک ایسی معیشت جو پالیسی کے مؤثر نفاذ، زرعی بحالی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت پر منحصر ہے۔