آزاد جموں و کشمیر میں احتجاج پرتشدد، 9 افراد جاں بحق، درجنوں زخمی

مظفرآباد/اسلام آباد آزاد جموں و کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر جاری عام ہڑتال کے تیسرے روز بدھ کو پرتشدد مظاہروں نے صورتحال کو سنگین بنا دیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 9 افراد جاں بحق ہوگئے، جن میں تین پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ اس کشیدہ صورتحال نے پورے خطے کو مفلوج کر دیا ہے اور امن و امان کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

سرکاری حکام کے مطابق مختلف اضلاع میں مظاہرے پرتشدد شکل اختیار کرگئے، خصوصاً دھیر کوٹ میں جہاں مسلح مظاہرین نے پولیس پر فائرنگ کی۔ اس واقعے میں کانسٹیبل خورشید اور کانسٹیبل جمیل (ضلع باغ سے) اور کانسٹیبل طاہر رفی (مظفرآباد سے) شہید ہوگئے، جبکہ نو دیگر اہلکار زخمی ہوئے۔ مجموعی طور پر 172 پولیس اہلکار اور تقریباً 50 شہری زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے بعض کی حالت نازک ہے۔

ہڑتال کے باعث مظفرآباد، میرپور، پونچھ، نیلم، بھمبر اور پلندری میں کاروبار اور ٹرانسپورٹ مکمل طور پر بند رہے۔ مرکزی شاہراہیں بلاک ہونے سے آزاد جموں و کشمیر کا پاکستان سے زمینی رابطہ بھی متاثر ہوگیا۔ بیشتر علاقوں میں انٹرنیٹ سروس بھی معطل رہی، جس سے اطلاعات کی ترسیل مزید محدود ہوگئی۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی، جس کی قیادت شوکت نواز میر کر رہے ہیں، نے کئی بڑے مطالبات رکھے ہیں۔ ان میں پناہ گزینوں کے لیے مخصوص 12 نشستوں کا خاتمہ، کوٹہ سسٹم کا خاتمہ، یکساں اور مفت تعلیم، مفت علاج، عدالتی اصلاحات اور ایک بین الاقوامی ہوائی اڈے کا قیام شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ وفاقی اور آزاد جموں و کشمیر حکومت نے پہلے ہی ان مطالبات میں سے تقریباً 90 فیصد تسلیم کر لیے تھے، تاہم چند نکات پر اتفاق نہ ہونے کے باعث مذاکرات ناکام ہوگئے اور احتجاج ٹکراؤ میں بدل گیا۔

وزیرِاعظم آزاد جموں و کشمیر چوہدری انوار الحق نے وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مظاہرین سے پرامن رہنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا:
“ہمارے تین پولیس اہلکار شہید اور کئی زخمی ہوئے ہیں۔ یہ واضح ہے کہ اس احتجاج میں باہر سے آنے والے لوگ بھی شامل ہو گئے ہیں، جس کی وجہ سے صورتحال مزید بگڑی ہے۔ میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت سے اپیل کرتا ہوں کہ مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔ مسائل کا حل بات چیت میں ہے، تشدد میں نہیں۔”

ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے انہیں اور وفاقی وزیر برائے امور کشمیر انجینئر امیر مقام کو مظفرآباد جا کر کمیٹی قیادت سے براہِ راست مذاکرات کا مینڈیٹ دیا ہے۔ ان کے مطابق صرف دو مسائل باقی ہیں — پناہ گزینوں کے لیے مخصوص نشستوں کا خاتمہ اور وزیروں کی تعداد میں کمی — جو آئینی ترمیم کے بغیر ممکن نہیں۔

حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والے "پروپیگنڈا اور جھوٹی خبروں” پر کان نہ دھریں، کیونکہ یہ بیانیہ صورتحال کو مزید بھڑکا رہا ہے۔ حکام نے اعتراف کیا ہے کہ حالات اب بھی کشیدہ ہیں، بازار بند ہیں، سڑکیں سنسان ہیں اور خطے کے مختلف شہروں پر خوف کی فضا طاری ہے۔

وزیراعظم انوار الحق نے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
“عام لوگوں کو بھڑکا کر انارکی پیدا کرنا صرف سانحات کو جنم دیتا ہے۔ ایک بے گناہ انسان کی جان لینا پوری انسانیت کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔ ہمیں ایسے راستے سے بچنا ہوگا جو مزید خونریزی کی طرف لے جائے۔”

More From Author

پی آئی اے کی براہِ راست پروازیں برطانیہ کے لیے دوبارہ شروع کرنے کی تیاریاں تیز

کراچی کے میئر کا وزیراعظم سے 200 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز کا مطالبہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے