کراچی – ستمبر 2025: ایک آڈٹ رپورٹ نے کراچی میں شدید پانی کے بحران کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ شہر کو رواں سال اور 2026 میں سنگین قلتِ آب کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس بحران کی بڑی وجہ کے-فور منصوبے (گریٹر بلک واٹر سپلائی اسکیم) کی مسلسل تاخیر کو قرار دیا گیا ہے۔
آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق منصوبے کے فیز ون کے تحت ٹھٹہ کے کینجھر جھیل سے کراچی کو یومیہ 260 ملین گیلن پانی فراہم کرنے کا ہدف مقرر تھا، تاہم منصوبے کی پیش رفت کو “انتہائی سست” قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ فیز ون کے آٹھ حصوں میں سے اب تک صرف 45 فیصد کام مکمل ہوسکا ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ تین فلٹریشن پلانٹس کی تعمیر پر صرف 25 فیصد پیش رفت ہوئی، جبکہ پائپ لائن بچھانے کے دو حصوں پر 50 فیصد سے زائد کام مکمل کیا گیا۔ اس کے برعکس، پمپنگ اسٹیشن جیسے اہم ترین حصے پر محض 26 فیصد کام ہوسکا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ منصوبے میں تاخیر کے باوجود، پروجیکٹ ڈائریکٹر کے لیے 6 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی چار نئی گاڑیاں خریدی گئیں۔ انتظامیہ نے موقف اختیار کیا کہ یہ گاڑیاں غیر ملکی ماہرین کی نقل و حرکت کے لیے لی گئیں، تاہم آڈیٹر جنرل نے اس وضاحت کو “ناکافی” قرار دیا۔
یاد رہے کہ فیز ون کے تمام آٹھ حصوں کے معاہدے مئی تا ستمبر 2022 کے درمیان کیے گئے تھے اور انہیں فروری 2024 تک مکمل ہونا تھا۔ تاہم رپورٹ کے مطابق انتظامیہ مکمل ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی، جس کے باعث کراچی پہلے سے جاری قلتِ آب کے بعد مزید سنگین بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تاخیر برقرار رہی تو شہر کو آئندہ دو برسوں میں پانی کی ایسی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جو ماضی میں کبھی نہیں دیکھا گیا۔