واشنگٹن ڈی سی — وائٹ ہاؤس نے منگل کو کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قطر کی قیادت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ دوحہ پر اسرائیلی فضائی حملے کا واقعہ دوبارہ نہیں دہرایا جائے گا۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حملے سے متعلق پیشگی اطلاع دینے کے معاملے پر واشنگٹن اور دوحہ کے بیانات میں تضاد پایا جا رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکی فوج نے اسرائیل کی کارروائی کے بارے میں ٹرمپ انتظامیہ کو آگاہ کیا تھا، جس کا ہدف قطر کے دارالحکومت دوحہ میں موجود حماس کے رہنما تھے۔ اس حملے میں پانچ حماس رہنماؤں سمیت سینئر رہنما خلیل الحیہ کے بیٹے اور ایک قطری سیکیورٹی افسر کی جان گئی۔
لیوٹ کے مطابق، "آج صبح امریکی فوج نے اطلاع دی کہ اسرائیل حماس کو نشانہ بنانے جا رہا ہے، جو بدقسمتی سے دوحہ کے ایک حصے میں موجود تھے۔” انہوں نے اسرائیلی اقدام کو "انتہائی تشویشناک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی خودمختار ملک — جو امریکہ کا قریبی اتحادی ہے — میں یکطرفہ بمباری نہ تو اسرائیل اور نہ ہی امریکہ کے مقاصد کو آگے بڑھاتی ہے۔
لیوٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے فوری طور پر خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کو ہدایت دی کہ وہ قطری حکام کو ممکنہ حملے سے آگاہ کریں۔ تاہم قطر نے اس دعوے کو مسترد کر دیا۔ قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ امریکی اطلاع بم دھماکوں کے آغاز کے بعد ملی، نہ کہ اس سے پہلے۔ "یہ کہنا غلط ہے کہ قطر کو پیشگی اطلاع دی گئی تھی۔ امریکی افسر کی کال اس وقت موصول ہوئی جب دوحہ میں دھماکے سنائی دے رہے تھے،” الانصاری نے ایکس پر لکھا۔
اس اختلاف کے باوجود وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ذاتی طور پر رابطہ کر کے افسوس کا اظہار کیا۔ لیوٹ نے کہا: "صدر نے انہیں یقین دلایا کہ ایسا واقعہ دوبارہ ان کی سرزمین پر نہیں ہوگا۔” انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ قطر کو "امریکہ کا قریبی دوست اور مضبوط اتحادی” سمجھتے ہیں۔
لیوٹ نے یہ بھی کہا کہ صدر کا ماننا ہے کہ یہ "بدقسمت واقعہ” امن کے لیے ایک موقع ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے بقول، ٹرمپ نے حملے کے بعد قطر کے امیر اور اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو دونوں سے گفتگو کی۔
یاد رہے کہ قطر، جہاں امریکہ کا ایک بڑا فوجی اڈہ موجود ہے، اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ کے آغاز کے بعد سے اسرائیل اور حماس کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں اہم کردار ادا کرتا آ رہا ہے۔ منگل کو بعد ازاں قطر نے کہا کہ اس کا امیر صدر ٹرمپ کو واضح کر چکا ہے کہ دوحہ اپنی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گا۔
اسرائیلی حملے کی خطے کے کئی ممالک اور عالمی طاقتوں نے مذمت کی ہے، جنہوں نے ایسے نازک وقت میں دوحہ پر بمباری کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جب حماس رہنما ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پیش کیے گئے نئے جنگ بندی منصوبے پر غور کر رہے تھے۔