کراچی (22 ستمبر 2025) – متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے اس فیصلے کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے، جس کے تحت کے۔الیکٹرک کو اربوں روپے کے ماضی کے نقصانات صارفین سے وصول کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ ایم کیو ایم نے اس فیصلے کو عوام دشمن اور غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ شہریوں کو نیپرا کے اس ’’غیر قانونی اور حد سے بڑھے ہوئے‘‘ فیصلے سے تحفظ فراہم کیا جائے۔ یہ درخواست ایم کیو ایم کے رہنما عامر صدیقی نے دائر کی، جس میں نیپرا اور کے۔الیکٹرک دونوں کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست میں نیپرا کے ایس آر او 1287(I)/2025 کو چیلنج کیا گیا ہے، جو 18 جولائی کو جاری کیا گیا تھا۔ اس کے تحت کے۔الیکٹرک کو لائن لاسز اور دیگر سابقہ ایڈجسٹمنٹس صارفین سے وصول کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ ایم کیو ایم کا موقف ہے کہ اس فیصلے کے نتیجے میں باقاعدگی سے بل ادا کرنے والے شہریوں پر بدانتظامی، نااہلی اور بجلی چوری کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔
ایم کیو ایم کے رہنما خواجہ اظہار الحسن نے قبل ازیں اعلان کیا تھا کہ ان کی جماعت اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرے گی، اور خبردار کیا تھا کہ یہ اقدام کراچی کی معیشت کو مفلوج کر دے گا جبکہ گھریلو صارفین، کاروباری طبقے اور صنعتوں پر ناقابلِ برداشت دباؤ ڈالے گا۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’کراچی کے عوام کو اجتماعی طور پر سزا دی جا رہی ہے‘‘ اور نیپرا نے اپنے قانونی دائرہ اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے بجلی چوری اور آپریشنل نقصانات کا بوجھ صارفین پر منتقل کر دیا ہے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ نیپرا پہلے ہی کے۔الیکٹرک کو 74 ارب روپے ماضی کے نقصانات کی مد میں صارفین سے وصول کرنے کی اجازت دے چکی ہے۔ اس کیس میں نیپرا اور کے۔الیکٹرک کے ساتھ ساتھ وفاقی حکومت کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔