کراچی – میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے شہر کے گرین اور ریڈ لائن ٹرانزٹ منصوبوں میں طویل تاخیر پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ان منصوبوں کے مسائل حل نہ ہونے کی وجہ سے شہری روزانہ کی بنیاد پر مشکلات کا شکار ہیں۔
مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ پاکستان انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (PIDCL) کو دونوں منصوبوں کی تکمیل کے لیے حتمی تاریخ دینا ہوگی اور کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (KMC) کو بھی اس بات کا اطمینان دلایا جائے کہ یہ منصوبے مقررہ مدت میں مکمل ہوں گے، ورنہ حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ 2017 میں جاری کیا گیا این او سی تاحال درست طریقے سے نافذ نہیں ہوا اور شہری اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ میئر نے تاخیر پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ رفتار کے ساتھ اگر منصوبے چلتے رہے تو یہ 2035 تک بھی مکمل نہیں ہو پائیں گے۔
مرتضیٰ وہاب نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مقامی قیادت کو منصوبوں کی تکمیل میں شامل کیا جانا چاہیے تاکہ ماضی کی غلطیوں سے بچا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ گرین لائن پر سرپینٹائن اور کے ڈی اے چورنگی جیسے مسائل نے پہلے ہی مشکلات پیدا کیں، جبکہ اب یونیورسٹی روڈ پر ریڈ لائن کے باعث شہری شدید مشکلات میں مبتلا ہیں۔
حالیہ پیشرفت میں، کے ایم سی نے گرین لائن ایکسٹینشن پر ایم اے جناح روڈ کے ساتھ جاری تعمیراتی کام روک دیا ہے اور اس حوالے سے پی آئی ڈی سی ایل حکام کو ایک باضابطہ خط بھی ارسال کیا گیا ہے، تاکہ منصوبے کی ٹائم لائن اور ذمہ داری واضح کی جا سکے۔