کراچی:
کراچی کے تاجروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی مقررہ تاریخ میں توسیع کی جائے، کیونکہ موجودہ حالات میں دی گئی ڈیڈلائن پر عمل ممکن نہیں۔ تاجروں نے زور دیا ہے کہ کاروباری برادری کو ریلیف دینے کے لیے کم از کم ایک ماہ کی مہلت دی جائے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی چیمبر آف کامرس، ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز اور نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری سمیت مختلف تجارتی تنظیموں نے شدید بارشوں اور شہری سیلاب کے اثرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ کی بار بار بندش نے گوشوارے تیار کرنے کے عمل کو مشکل بنا دیا ہے۔
کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر جاوید بلوانی نے کہا کہ بارشوں اور حالیہ آفات کے بعد ملک کے کئی شہروں میں معاشی سرگرمیاں نمایاں حد تک سست ہو گئی ہیں، اس لیے تاجروں کو ریلیف دینے کے لیے تاریخ میں توسیع ناگزیر ہے۔
اسی طرح نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے صدر فیصل معیز نے نشاندہی کی کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کاروباری طبقہ شدید مشکلات کا شکار ہے، اور تاریخ میں توسیع سے انہیں کچھ سہولت ملے گی۔
کاروباری رہنماؤں نے کہا کہ پیچیدہ گوشوارہ نظام اور مختصر مدت کی ڈیڈلائن تاجر برادری پر غیر ضروری دباؤ ڈال رہی ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ عوام اور تاجروں کی مشکلات کو تسلیم کرتے ہوئے فوری ریلیف فراہم کرے اور گوشوارے جمع کرانے کے لیے مناسب وقت دیا جائے۔