کراچی:
کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں پیر کے روز ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں بارش کے پانی سے بھرے گڑھے میں ڈوب کر دو کم عمر بچے جاں بحق ہوگئے، جبکہ ایک بچہ خوش قسمتی سے زندہ بچ نکلا۔
جاں بحق ہونے والوں کی شناخت 10 سالہ مورید حسین ولد عبدالمُنیر اور 11 سالہ حارث ولد عبدالغفار کے طور پر ہوئی، جو بھٹائی آباد کے رہائشی تھے۔ لاشوں کو ایدھی ایمبولینس کے ذریعے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر منتقل کیا گیا جہاں ضابطے کی کارروائی کے بعد لواحقین کے حوالے کر دیا گیا۔
پولیس کے مطابق یہ بچے ایک زیرِ تعمیر عمارت کے قریب موجود اس گڑھے میں نہا رہے تھے جو بنیاد ڈالنے کے لیے کھودا گیا تھا اور بارش کے پانی سے بھر چکا تھا۔ علاقہ تھانہ ملیر کینٹ کے ایس ایچ او آغا عبدالرشید نے بتایا کہ اس واقعے کے وقت مورید کا بھائی غلام حسین بھی وہاں موجود تھا لیکن وہ معجزانہ طور پر محفوظ رہا۔
یہ پہلا واقعہ نہیں ہے کہ اس نوعیت کی غفلت نے جان لی ہو۔ اس سے قبل رواں برس مئی میں راولپنڈی کے ڈھوک کالا خان سروس روڈ پر بھی ایک نوعمر لڑکا اسی طرح کے کھلے گڑھے کی نذر ہوگیا تھا۔ 17 سالہ ریحان مسیح کھیل کے دوران پھسل کر پانی سے بھرے 17 فٹ گہرے گڑھے میں جا گرا اور جانبر نہ ہو سکا۔
مقامی افراد کا کہنا تھا کہ واسا کی جانب سے پانی کے ٹینک کے لیے کھودا گیا یہ گڑھا کئی ماہ سے کھلا چھوڑ دیا گیا تھا اور فنڈز کی کمی کے باعث منصوبہ ادھورا پڑا تھا۔ گڑھے میں گندا پانی جمع ہوچکا تھا جو مچھروں کی افزائش کا بھی سبب بن رہا تھا۔ علاقہ مکین بارہا شکایت کرچکے تھے مگر کوئی عملی اقدام نہ اٹھایا گیا۔
واقعے کے بعد لاش کو بڑی مشکل سے نکالا گیا اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ٹیچنگ اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ضابطے کی کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کیا گیا۔
ان دونوں سانحات نے عوامی غم و غصے کو مزید بڑھا دیا ہے۔ راولپنڈی میں شہریوں نے واسا کے خلاف احتجاج کیا جبکہ کراچی میں حالیہ اموات نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ زیر تعمیر مقامات اور کھلے گڑھوں پر نگرانی کیوں نہیں کی جاتی اور عوامی تحفظ کے لیے موثر اقدامات کب کیے جائیں گے۔