ڈیجیٹل معیشت انٹرنیٹ کی سست روی سے متاثر آئی ٹی اور فری لانسنگ سیکٹر مشکلات کا شکار

کراچی: پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت مسلسل انٹرنیٹ کی سست رفتاری اور بار بار کی بندشوں کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہے۔ آئی ٹی ایکسپورٹس، ای کامرس، فری لانسنگ اور آن لائن خدمات فراہم کرنے والے دیگر شعبے روز بروز بڑھتی ہوئی مشکلات کی شکایت کر رہے ہیں۔ انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ اس کی بڑی وجہ زیرِ سمندر کیبل میں خرابی اور بیک ہال کے مسائل ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق ناقص نیٹ ورک مینجمنٹ اور صارفین کی جانب سے غیر مؤثر طریقہ کار اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔
مستحکم اور تیز رفتار انٹرنیٹ پر انحصار کرنے والے شعبے — جیسے سافٹ ویئر ایکسپورٹس، ای کامرس پلیٹ فارمز، فِن ٹیک، بینکنگ، کال سینٹرز، کلاؤڈ بیسڈ سروسز اور آن لائن میڈیا — سبھی اس سست روی سے متاثر ہو رہے ہیں۔
ہیگزالائز (Hexalyze) کے سی ای او سعد شاہ نے بتایا کہ انٹرنیٹ کے بار بار متاثر ہونے سے ان کی کمپنی کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ “ہمارے بیشتر آئی ٹی پراجیکٹس ریئل ٹائم ڈیپلائمنٹ پر منحصر ہوتے ہیں۔ مگر بار بار کی بندشوں کے باعث ہمیں اپنے کچھ ملازمین کو دبئی کے دفاتر میں منتقل کرنا پڑا تاکہ کام جاری رکھا جا سکے،” انہوں نے بتایا۔ سعد شاہ کے مطابق اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو پاکستان کا پانچ ارب ڈالر کا آئی ٹی ایکسپورٹ ہدف خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
ای کامرس بزنس اور فری لانسرز بھی سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ رات 7 سے 11 بجے کے درمیان انٹرنیٹ کی رفتار میں واضح کمی دیکھنے میں آتی ہے، جب امریکی اور یورپی کلائنٹس کے ساتھ زیادہ تر کام ہوتا ہے۔ ای کامرس انٹرپرینیور طارق غوری کے مطابق “بڑی ویب سائٹس جیسے ایمیزون اور ای بے پر ٹریڈرز کو اپ لوڈنگ اور ٹرانزیکشن میں تاخیر کے باعث نقصان ہو رہا ہے۔ کئی لوگوں نے تو وقتی طور پر اپنے آپریشنز بیرونِ ملک منتقل کر دیے ہیں تاکہ کلائنٹس کا اعتماد برقرار رہے۔”
آئی ٹی ماہر عمیر ثانی کا کہنا ہے کہ مسئلہ صرف بینڈوِتھ کا نہیں بلکہ استحکام (stability) کا ہے۔ “ویڈیو کالز یا آن لائن میٹنگز کے لیے بہت زیادہ سپیڈ نہیں بلکہ ایک مستحکم کنکشن ضروری ہوتا ہے،” انہوں نے وضاحت کی۔ “یہ بالکل پانی کے پائپ کی طرح ہے — پائپ چاہے تنگ ہو، مگر بہاؤ مستقل ہونا چاہیے۔”
انہوں نے مشورہ دیا کہ صارفین وائی فائی کے بجائے کیبل (Ethernet) کنکشن استعمال کریں، کیونکہ وائی فائی اکثر گھروں میں متعدد صارفین کے درمیان بانٹا جاتا ہے، جس سے کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔
پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ابراہیم امین نے کہا کہ فری لانسرز کی آمدنی براہِ راست متاثر ہو رہی ہے۔ “یہ لوگ ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ کماتے ہیں، مگر انٹرنیٹ کی غیر یقینی صورتحال ان کی کمائی کو متاثر کر رہی ہے،” انہوں نے بتایا۔
دوسری جانب وائرلیس اور انٹرنیٹ سروس پرووائیڈرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین شہزاد ارشد نے وضاحت کی کہ حالیہ رکاوٹیں زیادہ تر زیرِ سمندر کیبل کی مرمت اور ملکی بیک ہال کی محدود صلاحیت کی وجہ سے ہیں۔ “عارضی اقدامات سے کچھ بہتری آتی ہے، مگر مکمل بحالی میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں کیونکہ اس کے لیے بین الاقوامی کیبل کمپنیوں اور خصوصی جہازوں کی مدد درکار ہوتی ہے،” انہوں نے کہا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر نیٹ ورک کے بنیادی ڈھانچے اور اس کی بہتر مینجمنٹ پر توجہ نہ دی گئی تو پاکستان کی بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت کی رفتار سست پڑ سکتی ہے۔ انٹرنیٹ کی خرابی اب صرف تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ قومی ترقی کی راہ میں ایک سنجیدہ رکاوٹ بنتی جا رہی ہے۔

More From Author

چیمپئنز! پاکستان نے چھٹی بار ہانگ کانگ سکسز کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا

کراچی کی یونیورسٹی روڈ 10 نومبر سے 30 دسمبر تک بند رہے گی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے