چین نے دنیا کے سب سے بڑے پن بجلی ڈیم کی تعمیر شروع کر دی

بیجنگ:
چین نے تبت کے مشرقی کنارے پر دنیا کے سب سے بڑے پن بجلی ڈیم کی تعمیر کا آغاز کر دیا ہے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا کے مطابق وزیر اعظم لی کیانگ نے اس میگا پراجیکٹ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس پر کم از کم 170 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔

یہ منصوبہ یانگسی دریا پر تعمیر ہونے والے تھری گورجز ڈیم کے بعد چین کا سب سے بڑا پن بجلی منصوبہ ہے۔ اس خبر کو چینی مالیاتی منڈیوں نے معاشی بحالی کی علامت کے طور پر لیا جس کے نتیجے میں پیر کے روز اسٹاک مارکیٹ اور بانڈ ییلڈز میں تیزی دیکھی گئی۔

یہ ڈیم پانچ جڑی ہوئی ہائیڈرو پاور اسٹیشنز پر مشتمل ہوگا، جن کی مجموعی پیداوار سالانہ 300 ارب کلو واٹ گھنٹے ہو گی، جو تقریباً برطانیہ کی سالانہ بجلی کی کھپت کے برابر ہے۔ یہ ڈیم یارلونگ زانگبو دریا کے نچلے حصے میں بنایا جا رہا ہے، جہاں پانی صرف 50 کلومیٹر کے فاصلے میں تقریباً 2,000 میٹر نیچے گرتا ہے، جو بجلی پیدا کرنے کی بے پناہ صلاحیت ظاہر کرتا ہے۔

تاہم بھارت اور بنگلہ دیش نے اس منصوبے پر خدشات ظاہر کیے ہیں کہ اس کا اثر دریا کے نچلے علاقوں میں بسنے والے کروڑوں لوگوں پر پڑ سکتا ہے۔ ماحولیاتی تنظیموں نے بھی خبردار کیا ہے کہ یہ منصوبہ تبت کے قدرتی ماحولیاتی نظام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے، جو دنیا کے سب سے زیادہ حیاتیاتی تنوع والے علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔

بیجنگ کا کہنا ہے کہ یہ ڈیم تبت سمیت دیگر علاقوں کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد دے گا اور اس کا پانی کے بہاؤ یا ماحول پر کوئی بڑا منفی اثر نہیں پڑے گا۔ توقع ہے کہ یہ منصوبہ 2030 کی دہائی میں مکمل ہوگا۔

اس اعلان کے بعد چین کا سی ایس آئی کنسٹرکشن اینڈ انجینئرنگ انڈیکس 4 فیصد بڑھ کر سات ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ پاور کنسٹرکشن کارپوریشن آف چائنا اور آرک پلس گروپ پی ایل سی کے حصص اپنی روزانہ کی زیادہ سے زیادہ حد یعنی 10 فیصد تک بڑھ گئے۔

شنگھائی ژوژھو انویسٹمنٹ مینجمنٹ کے پارٹنر وانگ ژو کا کہنا تھا، ’’پن بجلی کے پختہ منصوبے سرمایہ کاروں کو بانڈ جیسی مستحکم آمدنی دیتے ہیں،‘‘ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ غیر حقیقی قیاس آرائیوں کے باعث ان کمپنیوں کی قیمتیں حد سے زیادہ بڑھ سکتی ہیں۔

ڈیم کی تعمیر سے سیمنٹ اور سول ایکسپلوسوز سمیت تعمیراتی مواد اور مشینری کی طلب میں بھی اضافہ متوقع ہے۔ بیجنگ اسٹاک ایکسچینج میں درج ٹنل کنسٹرکشن مشینری بنانے والی کمپنی ہونان وو شین ٹنل انٹیلیجنٹ ایکوئپمنٹ کے حصص میں 30 فیصد اضافہ ہوا جبکہ جیوکانگ ٹیکنالوجیز، جو اسمارٹ مانیٹرنگ ڈیوائسز بناتی ہے، کے حصص بھی اتنے ہی بڑھے۔ سیمنٹ بنانے والی ژیزانگ تیانلو کمپنی اور دھماکہ خیز مواد تیار کرنے والی تبت گاؤژینگ ایکسپلوسیو کمپنی کے حصص بھی 10 فیصد کی روزانہ کی زیادہ سے زیادہ حد تک جا پہنچے۔

صدی کا منصوبہ

وزیر اعظم لی کیانگ نے اس ڈیم کو ’’صدی کا منصوبہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی تحفظ کو ترجیح دی جائے تاکہ ماحول کو نقصان نہ پہنچے۔

سرمایہ کاروں نے اس اعلان کو معاشی سرگرمیوں کے فروغ کا اشارہ سمجھا، جس کے باعث حکومتی بانڈز کی ییلڈز بھی بڑھ گئیں۔ سب سے زیادہ متاثر 30 سالہ ٹریژری فیوچرز رہے، جو پانچ ہفتوں کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے۔

یہ میگا پراجیکٹ، جسے سرکاری ملکیت کی نئی قائم کردہ چائنا یا جیانگ گروپ دیکھ رہی ہے، ایسے وقت میں عوامی سرمایہ کاری میں بڑے اضافے کی علامت ہے جب چین کی معیشت سست روی کا شکار ہے۔

سٹی گروپ کے ایک نوٹ کے مطابق اگر تعمیرات دس سال تک جاری رہیں تو اس منصوبے سے سالانہ جی ڈی پی میں 120 ارب یوآن (16.7 ارب ڈالر) تک اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ حقیقی اقتصادی فوائد اس سے کہیں زیادہ ہوں گے۔

حکام نے ابھی یہ نہیں بتایا کہ اس منصوبے سے کتنے لوگوں کو روزگار ملے گا۔ تھری گورجز ڈیم کی تعمیر میں تقریباً دو دہائیاں لگیں، جس کے دوران دس لاکھ کے قریب ملازمتیں پیدا ہوئیں، لیکن اتنے ہی لوگوں کو اپنی آبائی زمینوں سے بے گھر بھی ہونا پڑا۔ یارلونگ زانگبو ڈیم کے باعث کتنے لوگ متاثر ہوں گے، اس بارے میں ابھی تک کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔

ماحولیاتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ تبت کے قدرتی ماحول کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے اور بھارت و بنگلہ دیش میں کروڑوں افراد کی پانی کی فراہمی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ یارلونگ زانگبو دریا بھارت میں داخل ہونے کے بعد برہم پتر کہلاتا ہے اور وہاں سے بنگلہ دیش تک بہتا ہے۔

More From Author

کوئٹہ میں غیرت کے نام پر قتل کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد حکومت متحرک، مرکزی ملزم گرفتار

کراچی پورٹ چارجز میں 50 فیصد کمی، تجارتی لاگت میں کمی اور ماحولیاتی بہتری کا عزم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے