لائیو ڈیش بورڈ اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے انسپیکشن سسٹم کو ڈیجیٹل کر دیا گیا
فیصل آباد: پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کیلئے 100 ایئر کوالٹی مانیٹرز نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو گزشتہ برسوں میں لگائے گئے صرف 3 مانیٹرز کے مقابلے میں ایک بہت بڑی پیش رفت ہے۔
محکمہ ماحولیات و ماحولیاتی تبدیلی کی سیکریٹری سلوت سعید نے ایک میڈیا بریفنگ کے دوران بتایا کہ اب تک 60 ایئر کوالٹی مانیٹرز نصب کیے جا چکے ہیں، جبکہ باقی 40 مانیٹرز رواں مالی سال کے اختتام تک کام کرنا شروع کر دیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ پنجاب میں ماحول سے متعلق بڑے اصلاحاتی پروگرام کا حصہ ہے، جس کے لیے حکومت نے رواں برس 3 سے 4 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا ہے۔
انہوں نے کہا، “صرف 3 سے بڑھا کر 100 مانیٹرز تک پہنچنا کوئی معمولی بات نہیں۔ یہ سب مضبوط منصوبہ بندی اور بین الاقوامی شراکت داروں کی مدد کے بغیر ممکن نہ تھا۔”
سلوت سعید نے اعلان کیا کہ آئندہ ماہ سے عوام کے لیے لائیو ایئر کوالٹی ڈیش بورڈ بھی متعارف کروایا جا رہا ہے، جس کے ذریعے شہری گھر بیٹھے فضائی آلودگی کی صورتحال براہِ راست جان سکیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ مانیٹرز عالمی پلیٹ فارم IQAir کے ساتھ منسلک ہیں، جس سے صارفین آن لائن ریئل ٹائم ڈیٹا حاصل کر سکیں گے۔
انہوں نے مزید کہا، “شفافیت سب سے اہم ہے۔ عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جان سکیں کہ وہ کس قسم کی ہوا میں سانس لے رہے ہیں۔”
ماحولیاتی تحفظ کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھاتے ہوئے، محکمہ نے صنعتی یونٹس کی انسپیکشن کو مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے ڈیجیٹل کر دیا ہے۔
سیکریٹری نے وضاحت کی، “پہلے ہمارے انسپکٹرز کو خود فیکٹریوں کا دورہ کرنا پڑتا تھا، مگر اب AI سسٹم کی مدد سے ہم دور بیٹھ کر ہی اخراجات کا جائزہ لے سکتے ہیں اور خلاف ورزیوں کی نشاندہی فوراً ہو جاتی ہے۔”
انہوں نے بتایا کہ لاہور میں ابتدائی طور پر 15 فوگ کینن آزمائشی بنیادوں پر تعینات کیے گئے ہیں، تاکہ اسموگ پر قابو پایا جا سکے۔ ماحولیاتی ماہرین نے حکومت کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیا ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ حقیقی تبدیلی صرف ڈیٹا کی دستیابی سے نہیں بلکہ مؤثر عملدرآمد اور عوامی آگاہی سے ہی ممکن ہو گی