لاہور (28 اگست 2025): پنجاب میں طوفانی بارشوں اور بھارت کی جانب سے دریاؤں میں اضافی پانی چھوڑنے کے باعث آنے والے سیلاب نے تباہی مچادی ہے، جس میں اب تک کم از کم 25 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دریائے راوی، چناب اور ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب ہے، جس کے باعث درجنوں دیہات پانی میں ڈوب گئے، کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں اور کئی شہر بھی زیرِ آب آ گئے۔ حکام اس صورتحال کو صوبے کی تاریخ کے بدترین سیلابوں میں سے ایک قرار دے رہے ہیں۔
گوجرانوالہ ڈویژن سب سے زیادہ متاثر ہوا جہاں 15 افراد جاں بحق ہوئے۔ کمشنر گوجرانوالہ کے مطابق سمبڑیال میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد لقمہ اجل بنے، جبکہ گجرات میں چار، نارووال میں تین، حافظ آباد میں دو اور گوجرانوالہ شہر میں ایک ہلاکت رپورٹ ہوئی۔
بہاولنگر میں دریائے ستلج کی طغیانی نے سیکڑوں بستیوں کو لپیٹ میں لے لیا ہے جہاں تقریباً ڈیڑھ لاکھ کی آبادی بدترین مشکلات کا شکار ہے۔ کھیت، مکانات اور بستیاں پانی میں بہہ گئیں۔ صرف عارفوالا کے مقام پر ہی ایک لاکھ کیوسک سے زائد پانی کے بہاؤ نے کھڑی فصلوں کو اجاڑ دیا اور گھروں کو منہدم کر دیا۔
دریائے چناب کے پانی نے چنیوٹ کی درجنوں بستیوں کو ڈبو دیا جبکہ سیالکوٹ اور وزیرآباد میں پلکھو نالہ کنارے توڑ کر شہر کی گلیاں، بازار اور محلّے پانی میں ڈوبا گیا۔ پنڈی بھٹیاں کے دیہات بھی چاروں طرف سے سیلابی پانی میں گھرے ہوئے ہیں۔
حکام کے مطابق اب تک 90 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ ہزاروں خاندانوں کے گھر، مال مویشی اور سالہا سال کی جمع پونجی پانی میں بہہ گئی ہے۔ سینکڑوں لوگ آسمان تلے بغیر خوراک اور پناہ کے پڑے ہیں جبکہ چارہ ختم ہونے سے کسان اپنے مویشیوں کے بچنے کی امید بھی کھو بیٹھے ہیں۔ مسلسل بارش اور دریاؤں کی طغیانی نے ایک انسانی بحران کو جنم دے دیا ہے، جہاں امدادی کارروائیاں بھی دباؤ کا شکار ہیں۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اب کچھ نہیں بچا، وہ اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی زندگی کی کمائی، گھر اور کھیت سب کچھ بہتے دیکھ رہے ہیں