اسلام آباد، 12 ستمبر 2025 — پاکستان کے انجینئرز کے لیے ایک بڑی خوشخبری، پاکستان انجینئرنگ کونسل (PEC) نے چین کی بڑی کمپنیوں کے ساتھ ایک تاریخی معاہدہ کر لیا ہے جس کے تحت پاکستانی انجینئرز کو تربیت اور عملی مہارتیں فراہم کی جائیں گی۔
یہ معاہدے وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ دورۂ چین کے موقع پر منعقدہ بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران طے پائے۔ معاہدے پر دستخط کرنے والی چینی کمپنیوں میں تھر کول بلاک ون پاور جنریشن کمپنی، سینو سندھ ریسورسز اور شنگھائی الیکٹرک انجینئرنگ کنسلٹنگ کمپنی شامل ہیں۔
اس شراکت داری کے تحت، پاکستانی انجینئرز کو پاک-چین اقتصادی راہداری (CPEC) کے فریم ورک کے ذریعے عملی تربیت دی جائے گی۔ آئندہ پانچ برسوں میں 100 انجینئرز کو تھر کول پراجیکٹ پر تربیت دی جائے گی۔ اس کے علاوہ پاکستانی انجینئرز کو توانائی کے شعبے میں جدید تربیت کے لیے چین بھی بھیجا جائے گا۔
نوجوانوں کی مدد کے لیے 35 کروڑ روپے کے خصوصی اسکالرشپ فنڈ کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ آئندہ پانچ برس میں 175 مستحق طلبہ کو وظائف فراہم کیے جائیں گے، جبکہ انجینئرز کو آن لائن چینی زبان سیکھنے کا بھی موقع دیا جائے گا تاکہ وہ اپنے چینی ہم منصبوں کے ساتھ بہتر تعاون کر سکیں۔
چیئرمین پی ای سی انجینئر وسیم نذیر نے اس معاہدے کو "پاکستانی انجینئرز کی عملی تربیت اور پیشہ ورانہ ترقی کے لیے سنگِ میل” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے انجینئرز کو بین الاقوامی تجربہ حاصل ہوگا اور انہیں نئی ٹیکنالوجیز کے ساتھ ساتھ چینی زبان سیکھنے کے بھی مواقع ملیں گے۔
انجینئر وسیم نذیر نے مزید کہا کہ "یہ معاہدہ صرف مہارت تک محدود نہیں، بلکہ یہ ہمارے انجینئرز کے لیے نئے کیریئر کے دروازے کھولے گا اور ملک کی توانائی و صنعتی ضروریات کو پورا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔”
یہ معاہدہ پاکستان کے انجینئرز کو عالمی معیار کی تربیت اور مہارت سے جوڑنے کی ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جو سی پیک کے تحت تکنیکی تعاون کو مزید مضبوط بنائے گا۔