اسلام آباد — پاکستان اگلے سال اپنی بحری طاقت میں اہم اضافہ کرنے جا رہا ہے، جب اسے چین میں تیار کردہ پہلی ہینگور کلاس آبدوزوں کا بیڑہ ملے گا۔ ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت نہ صرف بھارتی بحریہ کی برتری کے لیے ایک نیا چیلنج ثابت ہو سکتی ہے بلکہ چین اور پاکستان کے دفاعی تعلقات میں ایک اور سنگِ میل کی حیثیت بھی رکھتی ہے۔
پاکستانی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف نے چینی اخبار گلوبل ٹائمز سے گفتگو میں تصدیق کی کہ یہ جدید ترین حملہ آور آبدوزیں 2026 میں پاک بحریہ کے بیڑے کا حصہ بن جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہینگور پروگرام کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے” اور اس سے نہ صرف پاکستان کی زیرِ آب جنگی صلاحیت میں اضافہ ہوگا بلکہ مقامی سطح پر ٹیکنالوجی منتقلی اور مہارت میں خود انحصاری بھی فروغ پائے گی۔
یہ آبدوزیں 2015 میں طے پانے والے 5 ارب ڈالر کے معاہدے کا حصہ ہیں، جس کے تحت آٹھ آبدوزیں پاکستان کو فراہم کی جائیں گی — جن میں سے چار چین میں اور چار کراچی شپ یارڈ میں مقامی سطح پر تیار کی جائیں گی۔ یہ معاہدہ چین کی تاریخ کی سب سے بڑی دفاعی برآمد سمجھا جاتا ہے۔
ایڈمرل اشرف کے مطابق، چینی بحری نظام وقت کے ساتھ قابلِ اعتماد اور جدید ثابت ہوئے ہیں، جو پاک بحریہ کی ضروریات سے ہم آہنگ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان اور چین مستقبل میں مصنوعی ذہانت، الیکٹرانک جنگ اور بغیر عملے کے نظام جیسے جدید دفاعی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر غور کر رہے ہیں۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہینگور کلاس آبدوزیں پاکستان کو سمندری نگرانی اور دفاع میں نمایاں برتری فراہم کریں گی، خاص طور پر شمالی بحیرۂ عرب میں جہاں یہ بھارت کی بحری سرگرمیوں کو محدود کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
واشنگٹن میں ہڈسن انسٹیٹیوٹ سے تعلق رکھنے والی ماہر لیسلوٹ اوڈگارڈ کے مطابق “یہ آبدوزیں پاکستان کے دفاعی توازن کو مضبوط کریں گی، بھارت کی سمندری حکمتِ عملی کو پیچیدہ بنائیں گی اور چین کے انڈو پیسیفک مفادات میں ایک اہم اضافہ ہوں گی۔”
یہ آبدوزیں ایئر انڈیپنڈنٹ پروپلشن (AIP) نظام سے لیس ہیں، جس کی بدولت وہ تین ہفتوں تک زیرِ آب رہ سکتی ہیں اور کل 60 دن کے طویل مشنز انجام دے سکتی ہیں۔ ان میں سے ہر آبدوز ٹارپیڈو اور کروز میزائل داغنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جو پاکستان کے دفاعی ڈھانچے کو دوسری ضرب (Second-Strike) کی صلاحیت دے سکتی ہے۔
اگرچہ بھارت کے پاس نیوکلیئر آبدوزیں جیسے INS Arihant اور INS Arighaat موجود ہیں، مگر ماہرین کے مطابق پاکستان کی ہینگور کلاس آبدوزیں کم لاگت میں ایک مؤثر متبادل فراہم کریں گی، جو بھارت کے اینٹی سبمیرین آپریشنز کو مزید مشکل اور مہنگا بنا سکتی ہیں۔
ڈلیوری میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ جرمنی کی جانب سے MTU396 انجن کی برآمد پر پابندی تھی، جس کے بعد چین نے اپنا نیا CHD620 انجن تیار کیا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین نے مغربی ٹیکنالوجی پر انحصار کم کر دیا ہے، اگرچہ اس انجن کی اصل کارکردگی — خاص طور پر خاموشی اور پوشیدگی کے لحاظ سے — ابھی آزمائش کے مرحلے میں ہے۔
ماہرین کے مطابق، چند خدشات کے باوجود، ہینگور کلاس آبدوزوں کی فراہمی پاکستان کی بحریہ کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہے، جو نہ صرف ملکی دفاع کو مضبوط بنائے گی بلکہ چین کی بحرِ ہند میں بڑھتی ہوئی موجودگی کو بھی تقویت دے گی۔