ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کے تازہ ترین ایڈیشن میں پاکستان ایک بار پھر عالمی سفری آزادی کی فہرست میں نچلی سطح پر آ گیا ہے۔ جولائی تا دسمبر 2025 کی تازہ درجہ بندی کے مطابق، پاکستانی شہری بغیر ویزا کے صرف 32 ممالک کا سفر کر سکتے ہیں۔ اس محدود سفری رسائی کے ساتھ پاکستان کا شمار صومالیہ اور یمن کے ساتھ دنیا کے چوتھے کمزور ترین پاسپورٹس میں کیا گیا ہے، جنہیں 199 ممالک کی فہرست میں مشترکہ طور پر 96ویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔
عالمی منظرنامہ: ایشیا کی سبقت
فہرست کے دوسرے سرے پر سنگاپور نے ایک بار پھر سب سے طاقتور پاسپورٹ کا اعزاز برقرار رکھا ہے، جس کے شہریوں کو 193 ممالک میں ویزا فری یا ویزا آن ارائیول کی سہولت حاصل ہے۔ جاپان اور جنوبی کوریا اس کے بعد دوسرے نمبر پر ہیں، جنہیں 190 ممالک تک رسائی حاصل ہے۔
یہ رجحان اس بات کا مظہر ہے کہ ایشیائی ممالک عالمی سفارتی اثرورسوخ اور روابط کے میدان میں تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ یورپی ممالک بھی اپنی مضبوط موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہیں — جرمنی، فرانس، اٹلی اور اسپین تیسرے نمبر پر ہیں، جن کے شہری 189 ممالک میں بلا روک ٹوک سفر کر سکتے ہیں۔ یونان، سوئٹزرلینڈ اور نیوزی لینڈ جیسے ممالک بھی فہرست کے پہلے پانچ میں شامل ہیں، جنہیں 187 ممالک میں داخلے کی آزادی حاصل ہے۔
امریکی پاسپورٹ کی گرتی ہوئی ساکھ
2025 کی درجہ بندی میں ایک قابلِ ذکر پہلو امریکا کی تنزلی ہے۔ برسوں تک دنیا بھر میں طاقتور ترین پاسپورٹس میں شمار ہونے والا امریکی پاسپورٹ اب 10ویں نمبر پر آ چکا ہے — جو اس انڈیکس کی تاریخ میں اس کا کم ترین مقام ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہی رجحان جاری رہا تو امریکا پہلی بار ٹاپ ٹین ممالک سے بھی باہر ہو سکتا ہے۔
اس کے برعکس، متحدہ عرب امارات نے گزشتہ دہائی میں غیرمعمولی ترقی کرتے ہوئے 34 درجے کی بہتری کے بعد 8ویں پوزیشن حاصل کر لی ہے۔ چین، جو کبھی فہرست میں خاصا نیچے تھا، اب 60ویں نمبر پر پہنچ چکا ہے — ایک بڑی سفارتی اور انتظامی پیش رفت۔
پاکستان: چار کمزور ترین پاسپورٹس میں مستقل پھنسا ہوا
جہاں کئی ممالک اپنی عالمی رسائی بڑھانے میں کامیاب ہو رہے ہیں، پاکستان کی حالت جوں کی توں ہے۔ صومالیہ اور یمن کے ساتھ 96ویں نمبر پر ہونا اس بات کی علامت ہے کہ پاکستانی شہریوں کو دنیا کے اکثر ممالک میں داخل ہونے کے لیے پہلے سے ویزا درکار ہے، اور عالمی سطح پر پاکستان کا تصور اب بھی تشویش کا باعث ہے۔
پاکستان سے نیچے صرف تین ممالک ہیں: عراق (97واں نمبر)، شام (98واں نمبر)، اور افغانستان (99واں نمبر)۔ اس فہرست میں پاکستان سے قدرے بہتر کارکردگی دکھانے والے ممالک میں بنگلہ دیش، فلسطین اور اریٹیریا شامل ہیں، جو 94ویں پوزیشن پر ہیں، جبکہ نیپال اور لیبیا 95ویں نمبر پر آتے ہیں۔ حیرت انگیز طور پر، شمالی کوریا (93واں) اور ایران و سری لنکا (91واں) بھی پاکستان سے آگے نکل چکے ہیں۔
سفری آزادی یا عالمی شناخت کا آئینہ؟
ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کو بین الاقوامی ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (IATA) کے تعاون سے ترتیب دیا جاتا ہے، جو یہ جانچتا ہے کہ کسی ملک کے شہری کتنے ممالک میں بغیر ویزا کے داخل ہو سکتے ہیں۔
بظاہر یہ ایک سفری درجہ بندی ہے، لیکن اس کا اصل عکس ایک ملک کی عالمی ساکھ، سفارتی تعلقات اور داخلی استحکام سے جڑا ہوا ہوتا ہے۔ پاکستان کے مسلسل کمزور درجے نہ صرف اس کی بین الاقوامی رسائی پر سوال اٹھاتے ہیں بلکہ یہ اس بات کا بھی تقاضا کرتے ہیں کہ اسلام آباد سفارتی محاذ پر اپنی پوزیشن بہتر بنائے اور اپنے شہریوں کے لیے دنیا کے دروازے کھولنے کی کوشش کرے۔ علاقائی ممالک کی ترقی کے برعکس، پاکستان کو نہ صرف اپنا پاسپورٹ مؤثر بنانا ہوگا، بلکہ اس بیانیے کو بھی بدلنا ہوگا جو اسے عالمی برادری میں محدود کرتا ہے