اسلام آباد، 26 ستمبر 2025 — پاکستان میں حالیہ تباہ کن مون سون سیلاب کے بعد امدادی اداروں نے ہنگامی ریلیف کے مرحلے سے نکل کر بحالی اور دوبارہ تعمیر کے اقدامات پر توجہ مرکوز کرنا شروع کر دی ہے۔ ان سیلابوں نے 69 لاکھ سے زائد افراد کو متاثر کیا جبکہ تقریباً 30 لاکھ افراد کو اپنے گھروں سے بے دخل ہونا پڑا۔
انٹرنیشنل میڈیکل کور (IMC) کی 25 ستمبر کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، سیلاب نے ڈھائی ملین ایکڑ سے زائد زرعی زمین کو پانی میں ڈبو دیا، فصلوں اور مویشیوں کو تباہ کر دیا اور ایک لاکھ پچاس ہزار سے زائد افراد کو عارضی پناہ گاہوں میں منتقل ہونے پر مجبور کر دیا۔ اب جب کہ پانی اترنا شروع ہوا ہے، گھروں کو لوٹنے والے متاثرین گرے ہوئے مکانات، آلودہ پانی اور تباہ شدہ صفائی کے نظام کا سامنا کر رہے ہیں، جس سے وبائی امراض پھوٹنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
یہ آفت محض تین سال بعد آئی ہے جب 2022 کے تباہ کن سیلاب نے ملک کے ایک تہائی حصے کو ڈبو دیا تھا اور تین کروڑ تیس لاکھ افراد متاثر ہوئے تھے۔ ماہرین اور امدادی ادارے خبردار کر رہے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی سے جڑے بار بار آنے والے شدید واقعات نہ صرف لوگوں کی زندگیوں اور روزگار کو نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ خوراک کی کمی کو بھی بڑھا رہے ہیں اور پہلے ہی کمزور عوامی نظام پر مزید بوجھ ڈال رہے ہیں۔
“یہ سیلاب لاکھوں لوگوں کی زندگیوں اور روزگار کو تہس نہس کر چکے ہیں۔ ہماری اولین ترجیح اب یہ ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو فوری مسائل سے نکال کر انہیں دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا ہونے میں مدد فراہم کی جائے،” آئی ایم سی کے ترجمان نے رپورٹ میں کہا۔
اب تک آئی ایم سی کی ٹیمیں 2200 سے زائد آؤٹ پیشنٹ معائنہ کر چکی ہیں، تقریباً 58 ہزار پانی صاف کرنے والے پیکٹس تقسیم کیے ہیں اور 21 ہزار سے زیادہ افراد تک حفظانِ صحت سے متعلق آگاہی پہنچائی ہے۔ ادارہ متاثرہ خاندانوں کو نفسیاتی مدد بھی فراہم کر رہا ہے جبکہ چار صحت کے مراکز کی بحالی کے لیے نشاندہی کی جا چکی ہے۔
ادھر صحت کے خطرات بدستور موجود ہیں۔ امدادی اہلکاروں کے مطابق اس وقت دست، جلدی امراض اور مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پانی کی فراہمی کے ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچنے کے بعد کئی علاقے غیر محفوظ ذرائع پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ مویشیوں کی تباہی نے دیہی آمدنی کو مزید متاثر کیا ہے۔
آئی ایم سی کے حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ دیہات کی نقشہ بندی جاری ہے تاکہ طویل المدتی ضروریات کا تعین کیا جا سکے اور بحالی کے منصوبے ترتیب دیے جائیں۔ ادارے کے مطابق، “صاف پانی کی فراہمی بحال کرنا اور صحت کے مراکز کی مرمت ایسے بنیادی اقدامات ہیں جو مستقبل میں بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے اور متاثرہ کمیونٹیز کی بحالی میں اہم کردار ادا کریں گے۔”