کراچی — پاکستان میں سونے کی قیمت نے ایک نیا سنگ میل عبور کر لیا ہے اور تاریخ میں پہلی بار فی تولہ نرخ 4 لاکھ روپے سے اوپر چلا گیا۔ عالمی منڈی میں قیمتوں میں اچانک تیز اضافہ اس ریکارڈ ساز بڑھوتری کی بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
بلین مارکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، عالمی منڈی میں فی اونس سونا 59 ڈالر کے اضافے کے بعد 3 ہزار 818 ڈالر تک پہنچ گیا۔ اس کے براہِ راست اثرات پاکستان کی مقامی منڈی پر پڑے، جہاں 24 قیراط سونا 5 ہزار 900 روپے بڑھ کر 4 لاکھ 3 ہزار 600 روپے فی تولہ ہو گیا۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت 5 ہزار 58 روپے اضافے کے بعد 3 لاکھ 46 ہزار 21 روپے تک پہنچ گئی۔
قیمتوں میں اس اچانک اضافے نے شادیوں کی تیاری کرنے والے خاندانوں اور ان خریداروں کو سخت تشویش میں مبتلا کر دیا ہے جو روایتی طور پر بچت کے لیے سونا خریدتے ہیں۔ پہلے ہی مہنگائی کے دباؤ کا شکار گھریلو صارفین کے لیے یہ ایک اور بڑا بوجھ بن گیا ہے۔
دوسری جانب سرمایہ کار اس صورتحال کو ایک مختلف زاویے سے دیکھ رہے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ تاریخی سطح اس بات کی علامت ہے کہ سونے کی مانگ اب بھی مضبوط ہے اور آنے والے ہفتوں میں اگر عالمی رجحان برقرار رہا تو قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔
پاکستان کے لیے یہ نئی ریکارڈ سطح اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ کس طرح عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ مقامی اشیائے صرف پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ سونا اس وقت عوام کے لیے پریشانی اور سرمایہ کاروں کے لیے موقع، دونوں حیثیتوں میں سامنے آ رہا ہے۔