کراچی — وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے پیر کے روز کراچی ایکسپو سینٹر میں پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو اینڈ کانفرنس (PIMEC 2025) کے دوسرے ایڈیشن کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان جغرافیائی طور پر مشرق اور مغرب کے درمیان ایک “قدرتی بحری پل” کی حیثیت رکھتا ہے۔
یہ چار روزہ بین الاقوامی نمائش اور کانفرنس پاکستان نیوی کی سرپرستی میں اور وفاقی و صوبائی محکموں کے تعاون سے منعقد کی جا رہی ہے، جس میں 45 ممالک کے مندوبین، سرمایہ کار اور ماہرین شریک ہیں تاکہ پاکستان کی ابھرتی ہوئی بلو اکانومی کے مواقع کا جائزہ لیا جا سکے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اسے عالمی تجارت اور میری ٹائم نیٹ ورک میں ایک منفرد مقام عطا کرتی ہے، جہاں جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے خطے آپس میں ملتے ہیں۔
“پاکستان مشرق اور مغرب کے درمیان قدرتی بحری پل ہے،” انہوں نے کہا، “اور اگر ہم اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں تو پاکستان عالمی تجارت کا مرکزی کردار بن سکتا ہے۔”
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اتنے وسیع مواقع کے باوجود پاکستان کا میری ٹائم سیکٹر مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ رکھتا ہے، جبکہ دیگر بحری ممالک میں یہ شرح چار سے سات فیصد تک ہے۔
احسن اقبال نے بتایا کہ پاکستان کے پاس ایک ہزار کلومیٹر سے زائد ساحلی پٹی اور دو لاکھ نوے ہزار مربع کلومیٹر پر محیط خصوصی اقتصادی زون موجود ہے، جو توانائی، ماہی گیری اور معدنی وسائل میں بے پناہ امکانات رکھتا ہے۔
انہوں نے حکومت کے اڑان پاکستان منصوبے 2035ء کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مقصد ہے کہ پاکستان کو ایک کھرب ڈالر کی معیشت میں تبدیل کیا جائے، جس کے لیے 5Es فریم ورک (ایکسپورٹس، ای۔پاکستان، مساوات و بااختیاری، ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی، اور توانائی و انفراسٹرکچر) پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے آٹھ ایسے شعبے شناخت کیے ہیں جو برآمدات پر مبنی معیشت کے بنیادی ستون بن سکتے ہیں، جن میں زراعت، صنعت، آئی ٹی، معدنیات، افرادی قوت، سیاحت، تخلیقی صنعتیں اور بلو اکانومی شامل ہیں۔
احسن اقبال نے کہا، “آج کے دور میں سمندر دوبارہ تجارت، توانائی اور مواصلات کی شاہراہیں بن چکے ہیں، اور جو قومیں انہیں سمجھداری سے استعمال کر رہی ہیں، وہی مستقبل کی معاشی طاقتوں کی شکل اختیار کر رہی ہیں۔ دنیا کی خوشحالی دراصل سمندروں پر سفر کر رہی ہے۔”
انہوں نے اقوام متحدہ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کی 80 فیصد تجارت حجم کے لحاظ سے اور 70 فیصد مالیت کے لحاظ سے سمندری راستوں کے ذریعے ہوتی ہے، جبکہ بلو اکانومی عالمی جی ڈی پی میں ڈھائی ٹریلین ڈالر سالانہ کا حصہ ڈالتی ہے اور ساڑھے تین کروڑ سے زائد روزگار فراہم کرتی ہے۔
سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی میک ایک “عظیم موقع” ہے جو ملکی اور غیرملکی کاروباری رہنماؤں کو ایک پلیٹ فارم پر لا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت میری ٹائم تجارت کو فروغ دینے اور عالمی تعلقات مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
پی میک 2025 میں 150 مقامی اور 28 بین الاقوامی نمائش کنندگان شریک ہیں جبکہ 44 ممالک — بشمول برطانیہ، سعودی عرب، چین، مصر اور ترکیہ — کے نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان اپنے میری ٹائم سیکٹر کی مکمل صلاحیت کو استعمال کرے تو یہ معیشت میں سالانہ 100 ارب ڈالر سے زائد کا حصہ ڈال سکتا ہے۔