نئی دہلی – مہینوں کی کشیدگی کے بعد بھارت نے پاکستانی فنکاروں اور یوٹیوب چینلز پر عائد بعض ڈیجیٹل پابندیاں جزوی طور پر اٹھا لی ہیں۔ اس اقدام کے بعد بھارتی صارفین ایک بار پھر چند معروف پاکستانی اداکاروں کے انسٹاگرام اور یوٹیوب اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کر سکے ہیں۔
ان پاکستانی فنکاروں میں احد رضا میر، ماورا حسین، یمنہ زیدی اور دانش تیمور شامل ہیں، جن کے انسٹاگرام اور یوٹیوب اکاؤنٹس بھارت میں دوبارہ دستیاب کر دیے گئے ہیں۔ تاہم مہوش حیات، فواد خان، وہاج علی، اقراء عزیز، فرحان سعید اور ہانیہ عامر جیسے نامور ستاروں کے اکاؤنٹس تاحال بھارتی صارفین کے لیے بند ہیں۔
یہ پابندیاں رواں برس اپریل میں اس وقت عائد کی گئی تھیں جب مقبوضہ جموں و کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں کو نشانہ بنانے والے حملے میں 26 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ حملے کے بعد بھارت نے سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے متعدد پاکستانی یوٹیوب چینلز اور فنکاروں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی عائد کر دی تھی۔
صورتحال اُس وقت مزید سنگین ہو گئی جب مئی میں پاکستان ایئر فورس نے مبینہ بھارتی میزائل حملوں کے ردعمل میں چھ بھارتی جنگی طیارے مار گرائے۔ اس عسکری کشیدگی نے دونوں ملکوں کے درمیان ثقافتی اور فلمی تبادلوں کو بھی متاثر کیا۔
اسی کشیدہ ماحول میں فواد خان اور وانی کپور کی مشترکہ فلم "ابیر گلال” کی ریلیز روک دی گئی، جبکہ اسٹریمنگ پلیٹ فارمز سے مہوش حیات اور ماورا حسین کی موجودگی والے پوسٹر بھی خاموشی سے ہٹا دیے گئے۔
تاہم حالیہ دنوں میں بھارتی میڈیا ادارے "انڈیا ٹوڈے” اور "ہندوستان ٹائمز” نے تصدیق کی ہے کہ کچھ پاکستانی فنکاروں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھارت میں دوبارہ فعال کر دیے گئے ہیں۔ یہ قدم ثقافتی بائیکاٹ میں نرمی کی جانب ایک ابتدائی اشارہ سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ یہ اقدام فی الحال محدود اور سیاسی طور پر محتاط دکھائی دیتا ہے۔
اس سے قبل اداکارہ ہانیہ عامر کی فلم "سردار جی 3” میں شمولیت بھی تنازع کا باعث بنی تھی۔ فلم میں ان کی موجودگی پر بھارتی فلمی تنظیم "فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سین ایمپلائز (FWICE)” اور "فلم فیڈریشن آف انڈیا” نے فلم کی ریلیز روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔ فلم کی بھارتی اداکارہ نیرو باجوا نے مبینہ طور پر ہانیہ کو انسٹاگرام پر ان فالو کر دیا اور اپنی پروفائل سے فلم کے تمام پروموشنل مواد کو بھی ہٹا دیا — جسے فلم سے لاتعلقی کے طور پر دیکھا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ڈیجیٹل پابندیوں میں جزوی نرمی خوش آئند ہے، لیکن اب بھی بڑی شخصیات پر عائد پابندیاں دونوں ملکوں کے درمیان موجود قومی جذبات، عدم اعتماد اور سیاسی تناؤ کی عکاسی کرتی ہیں۔ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ آیا یہ جزوی نرمی مستقبل میں پاک-بھارت تعلقات میں کسی بڑی پیش رفت کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ تاہم اتنا ضرور ہے کہ پاکستانی فنکاروں کے چہرے ایک بار پھر بھارتی اسکرینوں پر، خواہ صرف موبائلز اور براؤزرز کے ذریعے ہی سہی، دکھائی دینے لگے ہیں