ٹرمپ کا دعویٰ: اسرائیل 60 روزہ جنگ بندی پر آمادہ، حماس کو معاہدہ قبول کرنے کی تلقین

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں 60 دن کی مجوزہ جنگ بندی کے بنیادی نکات مان لیے ہیں — جو خطے میں جاری کئی ماہ کی خونریزی روکنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہو سکتی ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا،
"اسرائیل نے 60 دن کی جنگ بندی کو حتمی شکل دینے کے لیے ضروری شرائط مان لی ہیں، اس دوران ہم تمام فریقین کے ساتھ مل کر جنگ کے خاتمے کے لیے کام کریں گے۔”

یہ مجوزہ جنگ بندی قطر اور مصر کی مشترکہ ثالثی سے طے پائی ہے، جو اس سے قبل بھی اسرائیل اور حماس کے درمیان فائر بندی میں کلیدی کردار ادا کر چکے ہیں۔ اس جنگ بندی کا مقصد فریقین کو عارضی طور پر جنگ روکنے پر آمادہ کرنا ہے، تاکہ مذاکرات کے ذریعے دیرپا حل تلاش کیا جا سکے۔

ٹرمپ نے قطری اور مصری کردار کو سراہتے ہوئے کہا،
"قطری اور مصری حکام نے امن لانے کے لیے بہت محنت کی ہے، اب وہ اس آخری معاہدے کو پیش کریں گے۔”

ٹرمپ نے حماس کو سخت پیغام بھی دیا،
"میں امید کرتا ہوں کہ مشرقِ وسطیٰ کے وسیع تر مفاد میں حماس اس معاہدے کو قبول کرے، کیونکہ اس سے بہتر پیشکش نہیں ملے گی — صورتحال صرف بدتر ہی ہوگی۔”

اگرچہ اسرائیلی یا حماس حکام کی جانب سے باضابطہ تصدیق تاحال نہیں ہوئی، لیکن ٹرمپ کے بیان سے اندازہ ہوتا ہے کہ پس پردہ بات چیت فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے — اور شاید غزہ میں کچھ دیر کے لیے سکون کا سانس ممکن ہو جائے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب عالمی برادری کی جانب سے غزہ میں جنگ روکنے کے لیے دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، جہاں انسانی بحران سنگین صورت اختیار کر چکا ہے اور عالمی سطح پر مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔ ماہرین اس ممکنہ جنگ بندی کو ایک نازک موقع تصور کر رہے ہیں — نہ صرف فوری ریلیف کے لیے، بلکہ یہ جانچنے کے لیے بھی کہ آیا طویل المدتی سفارتی کوششیں اس تنازع کے حل کی راہ ہموار کر سکتی ہیں یا نہیں

More From Author

پاکستان کا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے مسئلہ کشمیر پر عملی اقدامات کا مطالبہ

غزہ جنگ کے خلاف احتجاج، اردن نے انڈر-19 باسکٹ بال میچ میں اسرائیل کے خلاف نہ کھیلنے کا فیصلہ کر لیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے