اسلام آباد — ایک وکیل نے متعلقہ حکام سے درخواست کی ہے کہ قانونی پیشہ ور افراد کے لیے ای-چالان جرمانوں سے استثنیٰ دیا جائے، جس میں انہوں نے اپنے مالی مسائل اور ڈیجیٹل ٹریفک جرمانوں کے بوجھ کو ایک ذمہ دار شہری کے لیے اضافی دباؤ قرار دیا ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ زیادہ تر وکلاء کی آمدنی مستقل یا بھاری نہیں ہوتی، مگر وہ عوام کی خدمت، موکلین کی نمائندگی، اور عدالتوں کے روانی سے کام کرنے کو یقینی بنانے میں دن گزارتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل چالان ان کے لیے غیر ضروری دباؤ کا سبب بن رہے ہیں۔
درخواست گزار نے کہا، "ای-چالان کا مقصد سڑکوں پر حفاظت کو فروغ دینا ہونا چاہیے، نہ کہ ایسے پیشہ ور افراد پر اضافی بوجھ ڈالنا جو انصاف کے نظام کو قائم رکھتے ہیں۔” انہوں نے زور دیا کہ وکلاء کو ان کے معاشرتی کردار کی بنیاد پر خصوصی غور و فکر کا حق حاصل ہے۔
یہ درخواست قانونی برادری میں بحث کا سبب بنی ہے، جہاں کئی وکلاء نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ٹیکنالوجی کی بنیاد پر جرمانے بعض اوقات ذاتی حالات کو نظرانداز کرتے ہیں۔ متعدد وکلاء نے مشورہ دیا کہ حکومت کو ایک واضح پالیسی مرتب کرنی چاہیے تاکہ وہ پیشہ ور افراد جو انصاف اور قانون کی خدمت کر رہے ہیں، ان کے لیے ریلیف کا تعین ہو۔
حکام نے ابھی تک اس درخواست پر جواب نہیں دیا، لیکن یہ معاملہ وسیع تر بحث کا محور بن چکا ہے کہ آیا کچھ پیشوں کو ای-چالان نظام میں رعایت یا خصوصی چھوٹ دی جانی چاہیے۔