کراچی – ماہر ماحولیات، شہری منصوبہ ساز، وکلا، ادیب اور سول سوسائٹی کے نمائندے اس ہفتے کراچی پریس کلب میں جمع ہوئے اور شہر کے سکڑتے ہوئے قدرتی آبی راستوں اور بگڑتے ماحولیاتی توازن پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ اجلاس کا عنوان تھا: “کراچی کے قدرتی آبی راستوں کو درپیش رکاوٹیں اور خطرات” جس میں ماہرین نے زور دیا کہ ملیر اور لیاری ندیوں کا تحفظ کراچی کی بقا کے لیے ناگزیر ہے۔
شرکا میں قانونی ماہر عابره اشفاق، کراچی پریس کلب کے سیکریٹری سہیل افضل خان، کاظم حسین مہیسَر، انڈیجینس رائٹس الائنس کے حفیظ بلوچ، شہری منصوبہ ساز محمد توحید، پروفیسر ڈاکٹر ابوبکر بلوچ، ماہر ماحولیات دریا خان اور مورخ و ادیب عظیم دہقان شامل تھے۔ مقررین نے واضح کیا کہ یہ دونوں ندیاں اور ان سے جڑی ہوئی نالیاں نہ صرف قدرتی سیلابی نکاس کا ذریعہ ہیں بلکہ کراچی کے ماحولیاتی نظام کی بنیاد بھی ہیں۔
ندیوں کو “زندہ آبی گزرگاہیں” قرار دینے کا مطالبہ
ماہرین نے مطالبہ کیا کہ ملیر اور لیاری ندیوں کو باضابطہ طور پر “زندہ آبی گزرگاہیں” تسلیم کیا جائے اور ان کے راستوں میں موجود تمام قبضے، تجاوزات اور غیرقانونی تعمیرات کا خاتمہ کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مستقبل میں ان قدرتی آبی راستوں پر کسی قسم کی تعمیر مکمل طور پر ممنوع ہونی چاہیے تاکہ شہر کے نازک ماحولیاتی ڈھانچے کو مزید نقصان نہ پہنچے۔
اجلاس میں متفقہ قرارداد منظور کی گئی جس میں حکومت سے کہا گیا کہ ملیر، گڈاپ، مویدان اور کتھور جیسے مضافاتی علاقوں کو مستقل طور پر سبز زون اور دیہی علاقے قرار دیا جائے۔ شرکا نے زور دیا کہ اس اقدام سے زرعی زمینوں اور صدیوں پرانے دیہاتوں کو ہاؤسنگ اسکیموں کے پھیلاؤ سے بچایا جا سکے گا اور زراعت شہر کی غذائی سلامتی کے لیے اپنی اہمیت برقرار رکھے گی۔
قرارداد میں ملیر ندی سے ریت اور بجری نکالنے پر پہلے سے موجود پابندی کو سختی سے نافذ کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا کیونکہ اندھا دھند کان کنی ندی کی ساخت کو کمزور کر رہی ہے اور پانی کے قدرتی بہاؤ میں رکاوٹ پیدا کر رہی ہے۔
زمین، جنگلات اور خوراک کے تحفظ پر زور
شرکا نے کہا کہ ملیر کی زرعی زمین کو شہر کے ماسٹر پلان میں ہمیشہ کے لیے سبز زون قرار دیا جائے۔ ساتھ ہی تجویز دی گئی کہ مقامی کسانوں کو ان کی لیز پر دی گئی زمینیں واپس کی جائیں یا ان کو ملکیتی حقوق دیے جائیں، جبکہ زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے کسانوں کو سبسڈی فراہم کی جائے۔
ماہرین نے مینگرووز کے تیزی سے ختم ہونے اور ساحلی وسائل کی تباہی پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے فوری طور پر جنگلات کی کٹائی، قبضہ مافیا کی سرگرمیوں اور ساحلی ماحولیاتی اثاثوں کی بربادی کو روکنے کا مطالبہ کیا اور اس کے بجائے بڑے پیمانے پر مینگرووز کی بحالی کے منصوبے شروع کرنے پر زور دیا۔
ماحولیاتی اور شہری چیلنجز سے نمٹنے کی ضرورت
ماہرین نے خبردار کیا کہ موسمیاتی تبدیلی، بے ہنگم آبادی کا پھیلاؤ اور غیرمنظم شہری ترقی کراچی کے مستقبل کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ انہوں نے سخت ہاؤسنگ اور تعمیراتی قوانین کے نفاذ، ایک جامع ڈیزاسٹر مینجمنٹ پلان کی تیاری اور صنعتی فضلے کو ندیوں میں پھینکنے پر مکمل پابندی لگانے کا مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق صنعتوں کو لازمی طور پر جدید ویسٹ مینجمنٹ نظام اپنانا چاہیے جبکہ تجارتی اور صنعتی مقاصد کے لیے زیرِ زمین پانی کے بے تحاشہ استعمال پر بھی پابندی لگنی چاہیے تاکہ شہر کے پانی کے ذخائر محفوظ رہ سکیں۔
قرارداد میں مزید کہا گیا کہ حکومت فوری اور مؤثر قانون سازی کرے تاکہ کراچی کے قدرتی وسائل، آبی راستے اور زرعی زمین محفوظ رہ سکیں۔ اس کے علاوہ بھٹو ہائی وے کی توسیع پر غیرجانبدار ماحولیاتی جانچ کرانے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ شرکا نے تجویز دی کہ اس منصوبے کے باعث ملیر ندی کے قریب جو زمین خالی ہوگی، اسے جنگلات اگانے کے لیے استعمال کیا جائے تاکہ شہر کا ماحولیاتی توازن بحال ہو سکے۔