لاہور — پاکستان کے نامور مزاحیہ اداکار لکی ڈئیر طویل علالت کے بعد منگل کے روز لاہور میں انتقال کر گئے۔ وہ 60 برس کے تھے۔
خاندانی ذرائع کے مطابق، لکی ڈئیر کو کچھ عرصے سے پھیپھڑوں کے عارضے، ذیابطیس اور متعدد اعضا کی ناکامی کے باعث میو اسپتال میں داخل کیا گیا تھا، جہاں انہیں انتہائی نگہداشت کے یونٹ (آئی سی یو) میں رکھا گیا۔ حکومت کی جانب سے ان کے علاج کے اخراجات برداشت کیے جا رہے تھے تاہم ڈاکٹروں کی تمام تر کوششوں اور عوامی دعاؤں کے باوجود ان کی حالت مسلسل بگڑتی رہی۔ رواں ماہ کے آغاز میں وہ کوما میں چلے گئے تھے اور بالآخر جانبر نہ ہو سکے۔
چار دہائیوں پر محیط فن کا سفر
لکی ڈئیر کا فنی کیریئر چار دہائیوں سے زائد پر محیط رہا۔ انہوں نے تھیٹر، ٹیلی وژن اور فلم کے ذریعے اپنی مخصوص حسِ مزاح اور بے مثال ٹائمنگ سے لاکھوں دل جیتے۔ خاص طور پر لاہور کے تھیٹر منظرنامے میں ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ نووارد فنکاروں کے لیے وہ ایک استاد اور رہنما کی حیثیت رکھتے تھے جنہوں نے کئی نسلوں کو متاثر کیا۔
ان کے ساتھی اداکار اور قریبی دوست انہیں صرف ایک کامیڈین ہی نہیں بلکہ ایک مہربان انسان اور بے لوث فنکار کے طور پر یاد کرتے ہیں جو اپنے فن سے ہنسی بکھیرنے کے ساتھ دوسروں کی رہنمائی میں بھی پیش پیش رہے۔
خراجِ عقیدت کا سلسلہ
ان کے انتقال کی خبر سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر تعزیتی پیغامات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ساتھی فنکاروں اور مداحوں نے انہیں "اسٹیج کامیڈی کا سچا لیجنڈ” قرار دیا جس نے مشکل وقتوں میں بھی لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیریں۔ بہت سے افراد نے ان کی شرافت، عاجزی اور فن کے ساتھ لگن کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ لکی ڈئیر کی نمازِ جنازہ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ امکان ہے کہ لاہور میں بڑی تعداد میں مداح، دوست اور شوبز سے وابستہ شخصیات ان کی آخری رسومات میں شرکت کریں گی۔