اسلام آباد — وزیرِاعظم شہباز شریف نے پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ تعلقات کو ’’بھائی چارے، باہمی اعتماد اور مشترکہ تقدیر‘‘ پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان حال ہی میں طے پانے والا دفاعی تعاون کا معاہدہ اس لازوال رشتے کی مضبوط علامت ہے۔
بدھ کے روز وزیراعظم ہاؤس میں سعودی وفد کے اعزاز میں دیے گئے ظہرانے سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب ہمیشہ ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں، اور مستقبل میں بھی یہ رشتہ مزید مضبوط ہوتا جائے گا۔
یہ وفد پرنس منصور بن محمد بن سعد آل سعود کی قیادت میں پاکستان آیا تھا، جو سعودی۔پاکستان مشترکہ بزنس کونسل کے چیئرمین ہیں۔ ظہرانے میں ڈپٹی وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزراء، اعلیٰ حکام اور دونوں ممالک کے سرکردہ کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔
وزیراعظم نے پرنس منصور کا پُرتپاک استقبال کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ ملاقات ایک خاندان کے افراد کی طرح ہے جو ایمان، دوستی اور مشترکہ مقصد کے رشتے سے جڑے ہوئے ہیں۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ ان کا پہلا دورۂ سعودی عرب 1960 کی دہائی میں ہوا تھا، اور انہوں نے اپنی آنکھوں سے مملکت کی شاندار ترقی کا مشاہدہ کیا۔
اپنے حالیہ دورۂ ریاض کو یاد کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ یہ ’’ایک منفرد اور ناقابلِ فراموش تجربہ‘‘ تھا، جس میں انہیں ولی عہد محمد بن سلمان اور سعودی عوام کی جانب سے غیر معمولی مہمان نوازی کا سامنا ہوا۔
انہوں نے کہا، ’’سعودی قیادت اور عوام نے ہمیشہ ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔‘‘ شہباز شریف نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان مقدس شہروں مکہ اور مدینہ کے تحفظ کے لیے ہمیشہ پیش پیش رہے گا۔
وزیراعظم نے نئے دفاعی معاہدے کو دونوں ممالک کے درمیان بھائی چارے اور دینی رشتے پر استوار تعلقات کی باضابطہ توثیق قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا، ’’ہم حقیقی بھائی ہیں، اور بھائی ہمیشہ بھائی کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ پاکستان ہمیشہ حرمین شریفین کا محافظ رہے گا۔‘‘
شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ اب دونوں ممالک تجارت، سرمایہ کاری، تحقیق اور جدت کے شعبوں میں تعاون کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’یہ سنہری مواقع کا وقت ہے۔ ہم مل کر اپنے مشترکہ معاشی وژن کو حقیقت میں بدل سکتے ہیں۔‘‘
انہوں نے ولی عہد محمد بن سلمان کی جرات مندانہ اور بصیرت افروز قیادت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں سعودی عرب نے حیرت انگیز سماجی و معاشی اصلاحات کی ہیں۔
وزیراعظم نے کہا، ’’وقت اور حالات کسی کا انتظار نہیں کرتے۔ اتحاد، محنت اور باہمی تعاون کے ذریعے پاکستان اور سعودی عرب عالمی برادری میں مضبوط مقام حاصل کر سکتے ہیں۔‘‘