وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے پاکستان بھر میں شادیوں کی تقریبات سے حاصل ہونے والے ٹیکس میں 19 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔ یہ اضافہ ملک کی اربوں روپے مالیت کی شادی اور ایونٹ انڈسٹری کی بہتر دستاویزی نگرانی اور سخت ٹیکس قوانین کے نفاذ کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، مالی سال 2024-25 کے دوران ایف بی آر نے شادی کی تقریبات سے دو ارب دو کروڑ روپے کے ودہولڈنگ ٹیکس وصول کیے، جو گزشتہ سال کے ایک ارب ستر کروڑ روپے کے مقابلے میں تقریباً پانچ سو ملین روپے کا اضافہ ہے۔ حکام کے مطابق، یہ اضافہ شادی اور ایونٹ سے متعلق کاروباروں کی بڑھتی ہوئی دستاویز بندی اور نگرانی کی بہتری کو ظاہر کرتا ہے۔
ایف بی آر کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ شادیوں اور تقریبات کی صنعت طویل عرصے سے غیر رسمی معیشت کا حصہ رہی ہے، حالانکہ یہ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ اُن کے مطابق، “ہماری کوشش شہریوں پر بوجھ ڈالنے کی نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانے کی ہے کہ اس منافع بخش صنعت سے منسلک کاروبار بھی قومی خزانے میں اپنا جائز حصہ ڈالیں۔”
یہ ٹیکس انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی شق 236CB کے تحت وصول کیا جاتا ہے، جو ایف بی آر کو شادی کی تقریبات پر ایڈوانس ٹیکس عائد کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ یہ ٹیکس مارکیز، ہالز، ہوٹلوں، ریستورانوں، کلبوں اور کمیونٹی سینٹرز سمیت اُن خدمات پر بھی لاگو ہوتا ہے جو شادیوں سے منسلک ہیں جیسے کیٹرنگ، سجاوٹ، فوٹوگرافی، اور ایونٹ مینجمنٹ۔
قانون کے مطابق، ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ (ATL) میں شامل افراد پر 10 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد کیا جاتا ہے، جبکہ نان فائلرز کو 20 فیصد ایڈوانس ٹیکس ادا کرنا ہوتا ہے۔ فائلرز کے لیے یہ رقم بعد میں اُن کے سالانہ ٹیکس گوشواروں میں ایڈجسٹ کر دی جاتی ہے۔
حکام نے مزید بتایا کہ سب سے زیادہ ٹیکس وصولیاں کراچی، لاہور، اور اسلام آباد سے رپورٹ ہوئیں، جہاں زیادہ تر بڑی اور شاہانہ شادیوں کا انعقاد ہوتا ہے۔ ایف بی آر کی یہ تازہ کارروائی ملک کے غیر دستاویزی شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کی وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
ایک سینئر افسر کے مطابق، “ہمارا مقصد شفافیت اور جوابدہی کو فروغ دینا ہے۔ اس اقدام سے شادیوں کی بڑھتی ہوئی انڈسٹری کو باضابطہ دائرے میں لایا جا رہا ہے تاکہ معیشت میں توازن اور مالی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔”