کراچی — سندھ ہائی کورٹ نے جمعہ کو کے۔الیکٹرک سے شہر کے مختلف علاقوں میں ہونے والی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر جواب طلب کرلیا ہے۔ یہ ہدایت جماعتِ اسلامی کراچی کے امیر کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کے دوران دی گئی۔
سماعت کے آغاز میں عدالت نے درخواست کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق دلائل سنے۔ کے۔الیکٹرک کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ پہلے ہی یہ قرار دے چکی ہے کہ لوڈشیڈنگ جیسے تکنیکی معاملات پر نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) سے رجوع کرنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لائن لاسز سمیت کئی وجوہات لوڈشیڈنگ کا باعث بنتی ہیں۔
تاہم جسٹس اقبال کلہوڑو نے بجلی کے بل باقاعدگی سے ادا کرنے والے صارفین کو درپیش مشکلات پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ ’’جو لوگ اپنے بل وقت پر ادا کرتے ہیں اور بجلی چوری نہیں کرتے، انہیں بلا تعطل بجلی فراہم ہونی چاہیے۔ اگر کسی گلی میں ایک بھی گھر ایسا ہے جو بل ادا کر رہا ہے تو اسے بلا وجہ پریشانی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔‘‘
عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کے۔الیکٹرک نے اب تک پری پیڈ کارڈ سسٹم کیوں متعارف نہیں کرایا جو بجلی چوری اور بے جا استعمال کو روکنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ جسٹس کلہوڑو نے کہا کہ اگرچہ اس نظام کو مکمل طور پر نافذ کرنے میں پانچ سال لگ سکتے ہیں، لیکن ’’اس پر کام کا آغاز کسی نہ کسی وقت ہونا ہی چاہیے۔‘‘
کے۔الیکٹرک کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نجکاری کے بعد کمپنی نے بجلی چوری کی روک تھام کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ ان کے مطابق اے۔بی۔سی کیبلز لگائے گئے تاکہ غیر قانونی کنکشن ختم ہوں، لیکن بعد میں یہ پراپیگنڈہ کیا گیا کہ ان کیبلز کے تانبے کو فروخت کیا جا رہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت شہر کا تقریباً 70 فیصد حصہ لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ ایک ایسا نظام تشکیل دیا جانا چاہیے جس کے تحت کوئی صارف کارڈ کے بغیر بجلی استعمال نہ کرسکے۔ اس پر کے۔الیکٹرک کے وکیل نے یقین دہانی کرائی کہ عدالت کی تجویز متعلقہ حکام تک پہنچا دی جائے گی۔