کراچی: سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ صوبے کے پاس اتنے توانائی وسائل موجود ہیں کہ وہ نہ صرف اپنا بلکہ پورے ملک کا بجلی بحران حل کر سکتا ہے، لیکن وفاقی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے یہ ترقی رکی ہوئی ہے۔
اتوار کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے وفاق سے مطالبہ کیا کہ سندھ کی ہوا اور شمسی توانائی کی منصوبہ بندی کی مخالفت بند کی جائے اور صوبے کو اس شعبے میں بھرپور تعاون فراہم کیا جائے۔
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ پچھلے چھ سالوں میں تھر کول منصوبے سے 30 ملین ٹن کوئلے کے ذریعے 31 گیگاواٹ بجلی پیدا کی گئی، جو تین ملین گھروں کو روشن کرنے کے لیے کافی ہے۔ اس کے علاوہ 105 کلومیٹر طویل ریلوے لائن پر کام جاری ہے، جو تھر کے کوئلے کو ملکی اور بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ سندھ کا ونڈ کوریڈور بھی فعال ہے جبکہ متعدد سولر منصوبے تکمیل کے قریب ہیں۔ نوری آباد پاور پروجیکٹ کراچی کو 100 میگاواٹ بجلی فراہم کررہا ہے۔ صوبائی حکومت نے شمسی توانائی کے منصوبوں کے لیے 2.5 ارب روپے مختص کیے ہیں جبکہ تھر کے مستحق رہائشیوں کو 200 یونٹس تک بجلی کے بل پر سبسڈی دی جارہی ہے۔ کراچی، مانجھند، سکھر اور لاڑکانہ میں سولر پارکس بنانے کی منصوبہ بندی بھی کی جارہی ہے۔
غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کے حوالے سے وزیر اطلاعات نے بتایا کہ سکھر میں 37 خطرناک عمارتوں کی نشاندہی کی گئی ہے جبکہ کراچی، حیدرآباد، لاڑکانہ اور نواب شاہ میں بھی معائنے جاری ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس عمل میں ملوث افسران کے خلاف سخت ایکشن ہوگا۔
شرجیل میمن نے دریائے سندھ میں پانی کی سطح بڑھنے پر تشویش ظاہر کی، انہوں نے بتایا کہ گڈو اور سکھر بیراج پر نچلے درجے کی سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے، جس کے پیش نظر متاثرہ علاقوں میں ریلیف کیمپ فعال کردیے گئے ہیں۔
صحت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مون سون سے پیدا ہونے والی بیماریاں بڑھ رہی ہیں، جس کے باعث تمام متاثرہ اضلاع میں ایمرجنسی یونٹس اور موبائل میڈیکل کیمپ قائم کردیے گئے ہیں۔
آخر میں انہوں نے نئی نمبر پلیٹ اسکیم کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد گاڑیوں کی رجسٹریشن کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور جرائم کی روک تھام کو یقینی بنانا ہے۔