حیدرآباد:
کراچی کے بعد اب حیدرآباد کے ڈیری فارمرز اور دودھ فروش بھی فی لٹر دودھ کی قیمت میں 50 سے 60 روپے اضافے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دودھ کی پیداوار اور ترسیل کے اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے جس کے باعث پرانی قیمتوں پر فروخت ممکن نہیں رہی۔
روزنامہ ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے ناصر گھوری، جنرل سیکریٹری حیدرآباد ریٹیل ڈیری سیلرز ویلفیئر ایسوسی ایشن نے کہا کہ موجودہ مہنگائی کے پیشِ نظر دودھ کی اصل قیمت فی لٹر 300 روپے مقرر ہونی چاہیے۔ “فی الحال ہم فارم سے دودھ 200 روپے فی لٹر خریدتے ہیں۔ درمیانی اخراجات اور ٹرانسپورٹ پر مزید 10 روپے لگ جاتے ہیں، یعنی دودھ ہمیں 210 روپے کا پڑتا ہے، مگر ہم مجبوری میں 220 روپے میں فروخت کر رہے ہیں،” انہوں نے بتایا۔ ناصر گھوری نے کہا کہ جیسے ہی کراچی میں نئی قیمتوں کی منظوری ہوگی، حیدرآباد کے دودھ فروش ڈپٹی کمشنر کو مقامی نرخوں میں ترمیم کے لیے باقاعدہ درخواست دیں گے۔
ڈیری اور مویشی پال حضرات کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی لاگت کے باعث پرانی قیمتوں پر کاروبار چلانا ناممکن ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق بھینسوں کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے جبکہ چارے اور خوراک کے اخراجات بھی گزشتہ ایک سال میں تقریباً دگنے ہو گئے ہیں۔ ایک مویشی مالک نے بتایا، “جب ہر چیز کی قیمت آسمان کو چھو رہی ہو تو پرانی قیمت پر دودھ فروخت کرنا ممکن نہیں رہا۔”
مہنگائی سے تنگ شہری، جو پہلے ہی سبزیوں، پھلوں اور دیگر ضروری اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے پریشان ہیں، اب دودھ کی متوقع مہنگائی سے ایک اور جھٹکے کے لیے تیار رہیں۔ ذرائع کے مطابق، حیدرآباد کے ڈیری فارمرز نے اس حوالے سے مشاورت شروع کر دی ہے، اور جیسے ہی کراچی میں نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری ہوگا، حیدرآباد میں بھی قیمتوں میں اضافے کے لیے ڈپٹی کمشنر کو درخواست دی جائے گی۔
فارم مالکان کا کہنا ہے کہ دودھ مہنگا کرنے کی بنیادی وجہ پیداواری لاگت میں غیرمعمولی اضافہ ہے۔ ایک بھینس جو پہلے 2 سے 3 لاکھ روپے میں ملتی تھی، اب 7 سے 8 لاکھ روپے میں دستیاب ہے۔ اسی طرح گندم کی چوکر کی قیمت 2800 روپے سے بڑھ کر 4000 روپے فی 40 کلو ہو گئی ہے، مکئی کی چوکر 2200 سے 4000 روپے تک پہنچ گئی ہے، جبکہ بھوسہ اب 4800 روپے فی 40 کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔ کھل (کاٹن سیڈ کیک) کی قیمت بھی 2800 روپے سے بڑھ کر 3800 سے 4000 روپے کے درمیان پہنچ گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔
فی الحال دکاندار دودھ 200 روپے فی لٹر میں خرید کر 220 روپے فی لٹر میں فروخت کر رہے ہیں، جس سے ان کا منافع انتہائی محدود رہ گیا ہے۔ مویشی مالکان کا کہنا ہے کہ 50 سے 60 روپے فی لٹر اضافہ ناگزیر ہو چکا ہے، ورنہ دودھ کی پیداوار برقرار رکھنا ممکن نہیں۔ دوسری جانب، کھلے بازار میں دودھ پاؤڈر اور دیگر ڈیری مصنوعات کی قیمتیں پہلے ہی 10 ہزار روپے فی 40 کلو تک پہنچ چکی ہیں، جس سے صارفین پر مزید بوجھ پڑنے کا خدشہ ہے۔
حیدرآباد میں یومیہ 7 لاکھ لیٹر دودھ استعمال ہوتا ہے، مگر پیداوار گھٹ کر 4 سے 5 لاکھ لیٹر تک رہ گئی ہے۔ مویشی پال حضرات کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی لاگت کے باعث متعدد چھوٹے ڈیری فارم بند ہو چکے ہیں، اور اگر قیمتوں میں فوری اضافہ نہ کیا گیا تو مقامی دودھ کی فراہمی میں مزید کمی واقع ہو سکتی ہے۔