کراچی: صوبائی وزیرِ اطلاعات شرجیل انعام میمن نے جمعرات کو کہا ہے کہ سندھ حکومت کسی بھی ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور ضرورت پڑنے پر متاثرہ آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے انتظامات کر لیے گئے ہیں۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے کے تمام اضلاع کی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "فی الحال صورتحال قابو میں ہے، تاہم احتیاطی اقدامات کر لیے گئے ہیں اور انخلا کے منصوبے بھی تیار ہیں۔”
شرجیل میمن نے پنجاب کے عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی اس مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑی ہیں اور امدادی سرگرمیوں میں ہر ممکن تعاون فراہم کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے ساتھ مکمل رابطے میں ہیں تاکہ ممکنہ نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔ کشتیوں، ٹینٹوں، کولرز اور دیگر ضروری سامان کا ذخیرہ کر لیا گیا ہے جبکہ صورتحال پر چوبیس گھنٹے نظر رکھنے کے لیے ایک خصوصی سیل قائم کر دیا گیا ہے۔
بیراجوں کی صورتحال اور ایمرجنسی اقدامات
شرجیل میمن نے کہا کہ گڈو، سکھر اور کوٹری بیراجوں پر پانی کی سطح کو مسلسل مانیٹر کیا جا رہا ہے۔ جمعرات کی شام تک گڈو بیراج پر پانی کی آمد 300,232 کیوسک اور اخراج 333,361 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ سکھر پر آمد 212,300 اور اخراج 266,370 کیوسک رہا، جبکہ کوٹری بیراج پر آمد 211,870 اور اخراج 244,025 کیوسک تک پہنچ گیا۔
دریں اثنا، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی جس میں صوبے کے تمام محکموں کے ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کرنے کے احکامات دیے گئے۔ ان محکموں میں آبپاشی، صحت، لائیو اسٹاک، بلدیات اور پولیس شامل ہیں۔ چیف سیکریٹری نے زور دیا کہ زیادہ سے زیادہ افرادی قوت کو ایمرجنسی ڈیوٹی کے لیے تیار رکھا جائے۔
اجلاس میں ہدایت دی گئی کہ تمام محکمے اپنی مشینری اور وسائل کی تازہ فہرست تیار رکھیں۔ چیف سیکریٹری آفس سمیت کمشنر اور ڈپٹی کمشنر دفاتر میں کنٹرول رومز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ صورتحال پر نظر رکھی جا سکے اور عوامی شکایات کو ریکارڈ کیا جا سکے۔
محکمہ صحت کو ہدایت دی گئی ہے کہ جان بچانے والی ادویات، بالخصوص ملیریا کے علاج، سانپ کے کاٹنے اور ریبیز کی ویکسین کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے۔ ریسکیو 1122 اور پی ڈی ایم اے کو کہا گیا ہے کہ وہ کشتیوں، ٹینٹوں اور میڈیکل سپلائیز کی مکمل فہرست ضلعی انتظامیہ کے ساتھ شیئر کریں۔ حکام کے مطابق اس وقت سندھ میں 188 ریسکیو بوٹس موجود ہیں، جبکہ ضرورت پڑنے پر نجی سطح پر مزید کشتیاں فراہم کرنے کا بھی انتظام کیا جا رہا ہے۔
وزراء کا سکھر بیراج کا دورہ
وزیر آبپاشی سندھ جام خان شورو اور وزیر توانائی سید ناصر حسین شاہ نے سکھر بیراج کا دورہ کیا اور تیاریوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ بیراج کی ساخت محفوظ ہے اور یہ 9 لاکھ 60 ہزار کیوسک پانی کا دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تاہم دونوں وزراء نے خدشہ ظاہر کیا کہ دریائی پٹی میں رہنے والی بہت سی آبادیاں اب بھی اپنے آبائی گھروں کو چھوڑنے پر تیار نہیں ہیں، حالانکہ بارہا انتباہ جاری کیے جا چکے ہیں۔
جام خان شورو نے کہا کہ "حکومت مسلسل پنجند پر نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ سندھ کی طرف کتنا پانی آ سکتا ہے۔”
ناصر شاہ نے خبردار کیا کہ اگر راتوں رات سات سے آٹھ لاکھ کیوسک پانی سکھر بیراج سے گزر گیا تو "کسی کے بس میں نہیں ہوگا کہ صورتحال پر قابو پایا جا سکے۔” انہوں نے ایک بار پھر کالا باغ ڈیم کی مخالفت دہراتے ہوئے کہا کہ ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت صرف دیامر بھاشا ڈیم اور دیگر زیر تعمیر منصوبوں کی تکمیل کے بعد ہی بہتر ہو سکے گی۔