راوچےشتی، رومانیہ – 4 اگست 2025
رومانیہ کے شمال مشرقی دیہات کی خاموش گلیوں میں، ماہرِ امراضِ وبا، ڈینیئلا گافیٹا گھر گھر جا کر والدین کو قائل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ بچوں کی ویکسین نہ صرف محفوظ ہے بلکہ ان کی زندگی کے لیے ناگزیر بھی۔
لیکن یہ کام اتنا آسان نہیں۔
یورپ بھر میں خسرہ کے کیسز میں خطرناک اضافہ ہو رہا ہے، اور رومانیہ اس بحران کا سب سے زیادہ شکار نظر آتا ہے۔ صرف گزشتہ سال ہی رومانیہ میں 13,000 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے — جو کہ یورپی اکنامک ایریا میں جون 2024 سے مئی 2025 تک کے کل 18,000 کیسز کا بڑا حصہ ہے۔
یہ مسئلہ صرف رومانیہ تک محدود نہیں — خسرہ، جو ایک وقت میں تقریباً ختم ہو چکا تھا، دنیا بھر میں دوبارہ سر اٹھا رہا ہے۔ امریکہ بھی گزشتہ تیس برسوں کی بدترین وبا سے نبرد آزما ہے، اور اس کی ایک بڑی وجہ کووِڈ کے دوران سوشل میڈیا پر پھیلنے والی ویکسین مخالف مہمات ہیں۔
ڈینیئلا گافیٹا اور ان کی ٹیم کو جذباتی، معاشرتی اور معلوماتی مزاحمت کا سامنا ہے۔ ’’ہم وہ اعتماد واپس لانے کی کوشش کر رہے ہیں جو وقت کے ساتھ ختم ہوتا گیا،‘‘ 52 سالہ گافیٹا نے بتایا، ان کے لہجے میں عزم بھی تھا اور تھکن بھی۔
فی الوقت، رومانیہ یورپی یونین میں سب سے کم ویکسینیشن ریٹ رکھنے والا ملک ہے — صرف 62 فیصد، جبکہ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق اس بیماری کو روکنے کے لیے 95 فیصد کی حد عبور کرنا ضروری ہے۔
خوف، غلط فہمیاں اور سوشل میڈیا
ویکسینز سے آٹزم کا تعلق — یہ ایک مفروضہ ہے جسے سائنسی تحقیق بارہا غلط ثابت کر چکی ہے — پھر بھی کئی والدین اسے حقیقت مان بیٹھے ہیں۔
راوچےشتی کے گاؤں میں کئی مائیں اس موضوع پر چپکے چپکے بات کرتی ہیں۔
’’میں نے آن لائن پڑھا کہ ویکسین آٹزم کا باعث بنتی ہے،‘‘ 34 سالہ ایلینا آرمینیا نے بتایا۔ ’’اب وہ خوف میرے دل میں بیٹھ گیا ہے اور میں چاہ کر بھی نکال نہیں پا رہی۔‘‘
ان کی یہ ہچکچاہٹ مہنگی ثابت ہوئی — ان کے محلے کے کئی بچے حال ہی میں خسرہ کا شکار ہو کر اسپتال جا پہنچے۔ خسرہ محض بخار یا دانوں کا مرض نہیں — یہ نمونیا، دماغ کی سوجن، اور بعض اوقات موت کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ رومانیہ میں پچھلے ایک سال کے دوران خسرہ سے آٹھ اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔
خاندانی معالج مونيكا آپوسٹول کہتی ہیں کہ والدین کو قائل کرنا اکثر لاحاصل کوشش لگتا ہے۔
’’میں سمجھاتی ہوں، بار بار سمجھاتی ہوں — لیکن ایسا لگتا ہے جیسے دیوار سے بات کر رہی ہوں،‘‘ وہ کہتی ہیں۔
نظام کی خامیاں، اعتماد کا بحران
رومانیہ میں ویکسین سے متعلق موجودہ بحران کی جڑیں صرف افواہوں میں نہیں بلکہ نظامی کمزوریوں میں بھی ہیں۔ 1989 میں کمیونزم کے خاتمے کے بعد ہزاروں ڈاکٹر اور طبی عملہ ملک چھوڑ چکا ہے۔ نظامِ صحت کو مسلسل فنڈز کی کمی کا سامنا رہا ہے، اور ویکسینز کی کمی جیسے مسائل نے صورتحال کو مزید بگاڑ دیا ہے۔
عوام کا اعتماد بھی متزلزل ہو چکا ہے۔ کووِڈ کے دوران کئی معروف شخصیات — رومانیہ اور دنیا بھر میں — ویکسین مخالف بیانیہ پھیلاتی رہیں۔ جب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر جیسے ویکسین مخالف شخصیت کو اپنا وزیرِ صحت مقرر کیا، تو اس سے بھی بین الاقوامی سطح پر ویکسین پر اعتماد کو دھچکا لگا۔
رومانیہ کی سیاست میں بھی انتہائی دائیں بازو کے رہنما اس بیانیے کو ہوا دیتے رہے۔ جورج سیمیون، جو رواں سال مئی میں صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں کامیاب ہوئے تھے، والدین کو ویکسین کے معاملے میں مکمل آزادی دینے کے حامی ہیں۔
ویکسینیشن کمیٹی کے نگران، گندرویل دیمترا نے خبردار کیا کہ ’’یہ افواہیں بہت منظم انداز میں پھیلائی جا رہی ہیں۔‘‘
رومانیہ کے یورپ نواز صدر، نکوسور دان نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ عوام کا اعتماد بحال کرے اور گمراہ کن معلومات کے خلاف بھرپور مہم چلائے۔
"سخت فیصلوں کا وقت آ گیا ہے”
ڈینیئلا گافیٹا سمجھتی ہیں کہ حالات اب قابو سے باہر ہو چکے ہیں — اور سخت اقدامات وقت کی ضرورت بن چکے ہیں۔ ان کے مطابق، اب وقت آ گیا ہے کہ اسکول میں داخلے کے لیے ویکسینیشن کو لازمی قرار دیا جائے۔
’’ایسے اقدامات مقبول نہیں ہوتے — یہ بات میں جانتی ہوں،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’لیکن جب بات بچوں کی صحت پر آتی ہے، تو ہمیں فیصلے کرنے ہوتے ہیں — چاہے وہ کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔‘‘