حیدرآباد میں موسلادھار بارشوں سے نظام زندگی مفلوج

بارش کے اعداد و شمار میں تضاد نے سوالات کھڑے کر دیے

حیدرآباد:
سوموار اور منگل کو ہونے والی شدید موسلا دھار بارشوں نے حیدرآباد کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے باعث شہری زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔ شہری علاقوں میں پانی بھر گیا، بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔

بارش کے بعد جہاں شہری گھٹنوں گھٹنوں پانی میں پھنسے نظر آئے، وہیں بارش کے اصل حجم پر تنازع کھڑا ہوگیا۔ مقامی حکام کے مطابق لطیف آباد میں صرف 24 گھنٹوں کے دوران 280 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔ سٹی تعلقہ میں 268 ملی میٹر، قاسم آباد میں 185 ملی میٹر اور دیہی حیدرآباد میں 158 ملی میٹر بارش بتائی گئی۔

اس کے برعکس، محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) نے کہیں کم بارش ظاہر کی اور پورے شہر کے لیے صرف 85 ملی میٹر رپورٹ کیا۔ جب اس تضاد پر ایک پی ایم ڈی عہدیدار سے سوال کیا گیا تو انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا: “مجھے سمجھ نہیں آتا کہ اتنا بڑا فرق کیسے ہوسکتا ہے۔”

شہر زیرِ آب

بارش نے مرکزی شاہراہوں، چوراہوں اور نشیبی علاقوں کو جھیل بنا دیا۔ ضلعی انتظامیہ نے ہنگامی طور پر ڈیزل سے چلنے والے ڈیوٹرنگ پمپ نصب کیے تاکہ پانی نکالا جا سکے۔

میئر کاشف علی شورو اور ڈپٹی کمشنر زین العابدین میمن نے خود مختلف پمپنگ اسٹیشنوں کا معائنہ کیا۔ حکام کے مطابق اس بار شہر کو حیسکو پر کم انحصار کرنا پڑا اور زیادہ تر پمپ ڈیزل جنریٹرز سے چلائے گئے تاکہ بجلی کی بندش کے دوران بھی کام جاری رہ سکے۔

میئر کا کہنا تھا کہ مسلسل بارش کے باوجود زیادہ تر مرکزی سڑکیں منگل کی صبح تک صاف کر دی گئیں اور ٹریفک بحال ہوگیا۔ اس کے علاوہ نالوں اور ڈرین کی صفائی کے لیے صفائی ستھرائی کا عملہ بھی تعینات کر دیا گیا۔

بجلی کا بحران

بجلی کی طویل بندش نے شہری مشکلات میں مزید اضافہ کیا۔ حیسکو کے ترجمان صادق کُبڑ کے مطابق منگل کی صبح ساڑھے آٹھ بجے تک 99 فیڈرز بحال کر دیے گئے تھے، جبکہ 55 فیڈرز اب بھی بند تھے۔ شام تک کمپنی نے 124 فیڈرز بحال کرنے کا دعویٰ کیا، تاہم 30 فیڈرز بدستور غیر فعال رہے۔ حکام نے یہ وضاحت نہیں کی کہ رات گئے کتنے فیڈرز بند ہوئے تھے۔

ریکارڈ توڑ بارش

مقامی حکام کے مطابق سب سے زیادہ بارش لطیف آباد میں ریکارڈ ہوئی، جہاں منگل کی صبح 2 بجے سے 5 بجے کے درمیان صرف تین گھنٹوں میں 72 ملی میٹر بارش ہوئی۔ اسی دورانیے میں سٹی تعلقہ میں 68 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ قاسم آباد اور دیہی حیدرآباد میں رات 11 بجے سے صبح 2 بجے تک بالترتیب 45 ملی میٹر اور 40 ملی میٹر بارش ہوئی۔

تعلیمی ادارے بند

شدید بارش اور سڑکوں پر پانی جمع ہونے کے باعث ڈپٹی کمشنر نے حیدرآباد کے تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے منگل کے روز بند رکھنے کا اعلان کیا۔ اس کے علاوہ جامعہ سندھ جامشورو سمیت دیگر جامعات میں بھی 10 ستمبر کو تعلیمی سرگرمیاں معطل رہیں۔

دیگر اضلاع میں بارش

صرف حیدرآباد ہی نہیں، بلکہ سندھ کے دیگر علاقوں میں بھی شدید بارش ہوئی۔ خیرپور میں 81 ملی میٹر، تھرپارکر میں 69 ملی میٹر، نوشہروفیروز میں 59 ملی میٹر، دادو میں 46 ملی میٹر اور ٹھٹھہ میں 38 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی، جبکہ تھر کے مختلف علاقوں میں مزید بارشوں کی اطلاع ملی۔

More From Author

پنجاب میں 2 ہزار اسکول تباہ، بچوں کی تعلیم خطرے میں

گلستانِ جوہر میں اپارٹمنٹ عمارت زمین میں دھنس گئی، سیکڑوں افراد بے گھر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے