راولپنڈی:
جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد میں آنکھوں کی بیماری "کنجیکٹیوائٹس” کی ایک اور لہر نے درجنوں افراد کو متاثر کر دیا ہے، جس کے باعث سینکڑوں مریض علاج کے لیے اسپتالوں کا رخ کر رہے ہیں۔ یہ گزشتہ نو ماہ کے دوران اس مرض کی دوسری بڑی وبا ہے، جس نے شہریوں اور ماہرینِ صحت دونوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
ڈاکٹروں کے مطابق یہ مرض نہایت تیزی سے پھیل رہا ہے اور خاص طور پر بچے، خواتین اور بزرگ اس کا زیادہ شکار ہو رہے ہیں۔ مریضوں میں آنکھوں کی لالی، جلن، سوجن اور پانی آنے جیسے عام علامات پائی جا رہی ہیں، جسے عام زبان میں "آنکھ آنا” یا "گلابی آنکھ” کہا جاتا ہے۔
صرف تین دنوں میں شہر کے بڑے سرکاری اسپتالوں، جن میں ہولی فیملی اسپتال، بینظیر بھٹو جنرل اسپتال اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال شامل ہیں، میں دو ہزار ایک سو سے زائد مریض رجسٹر ہوئے ہیں۔ پرائیویٹ اسپتالوں اور کلینکس میں بھی مریضوں کی غیر معمولی تعداد رپورٹ ہو رہی ہے۔
اس اچانک وبا نے مقامی مارکیٹ میں علاج کے روایتی نسخوں کی طلب بھی بڑھا دی ہے۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کی دکانوں اور میڈیکل اسٹورز پر عرقِ گلاب کی فروخت میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جو آنکھوں کو سکون پہنچانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
ماہرینِ صحت نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کی ہدایت کی ہے، جن میں صفائی کا خاص خیال رکھنا، متاثرہ افراد کے قریب جانے سے گریز کرنا اور مرض کی شدت بڑھنے پر فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا شامل ہے۔ اسکولوں اور دفاتر کے کھلے ہونے کے باعث خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر احتیاط نہ کی گئی تو بیماری مزید پھیل سکتی ہے۔