کراچی: جامعہ کراچی نے اپنی زمین کو قبضہ مافیا سے محفوظ بنانے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ وائس چانسلر سیکریٹریٹ میں جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی کی زیرِ صدارت سنڈیکیٹ کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا، جس میں زمین کی واگزاری کے لیے متفقہ طور پر اہم فیصلے کیے گئے۔
اجلاس میں طے پایا کہ زمین کے معاملے پر فوری طور پر متعلقہ اداروں سے رابطہ کیا جائے گا تاکہ ان کی تعاون سے اس عمل کو یقینی بنایا جاسکے۔ اس مقصد کے لیے ایک ماہر اور تجربہ کار قانونی فرم کی خدمات حاصل کرنے کی منظوری دی گئی، جو قبضہ ختم کرنے اور زمین کی بازیابی کے معاملات میں وسیع تجربہ رکھتی ہے۔
مزید برآں، پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو قانونی فرم کو جامعہ کی زمین سے متعلق تمام ضروری معلومات اور دستاویزات فراہم کرے گی۔ اس کمیٹی میں ڈاکٹر محمد قیصر، ڈاکٹر شعیب احمد صدیقی، ڈاکٹر صالحہ رحمان، سید جہانزیب اور آصف مختار شامل ہیں۔
جامعہ کی زمین کی مستقل نگرانی کے لیے خصوصی سیکیورٹی گارڈز تعینات کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔ حکام کا کہنا تھا کہ یہ جامعہ کراچی کی تاریخ کا پہلا خصوصی اجلاس ہے جو محض زمین کے تحفظ کے لیے بلایا گیا اور اس کا مقصد یہ ہے کہ ادارے کی ایک ایک انچ زمین محفوظ بنائی جائے۔
شرکائے اجلاس نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی کو اس اقدام پر سراہا اور کہا کہ ان کی سربراہی میں جامعہ کی زمین کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات سامنے آئے ہیں۔ اس موقع پر پروفیسر عراقی نے سول سوسائٹی اور میڈیا کے کردار کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ صحافیوں نے زمین پر قبضوں کے معاملے کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور آئندہ بھی وہ قبضہ مافیا کو بے نقاب کرنے میں مؤثر ثابت ہوسکتے ہیں۔