ترکی کے مغربی علاقے میں 28 اکتوبر 2025 کو 6.1 شدت کا زلزلہ آیا جس سے کئی شہروں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ گھروں سے باہر نکل آئے۔
ترکی کی آفات اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے والی اتھارٹی (AFAD) کے مطابق زلزلے کا مرکز صندرجی (Sindirgi) نامی قصبے میں تھا جو بالیکسیر (Balikesir) صوبے میں واقع ہے۔ زلزلہ زمین کی سطح سے صرف چھ کلومیٹر کی گہرائی میں آیا، جس کی وجہ سے جھٹکے زیادہ شدت سے محسوس کیے گئے۔
زلزلے کے جھٹکے استنبول، بورصہ، مانیسا اور ازمیر سمیت کئی بڑے شہروں میں محسوس کیے گئے، جہاں گھروں اور عمارتوں کے لرزنے سے لوگ خوفزدہ ہوکر کھلے میدانوں کی طرف دوڑ پڑے۔ حکام کے مطابق تین پہلے سے متاثرہ عمارتیں اور ایک دو منزلہ دکان زمین بوس ہوگئیں۔ خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم کم از کم 22 افراد زخمی ہوئے جن میں سے زیادہ تر افراد بھاگتے وقت یا گھبراہٹ کے باعث گرنے سے زخمی ہوئے۔
ریسکیو ٹیمیں اور امدادی اہلکار فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں پہنچ گئے، جبکہ مقامی انتظامیہ نے مساجد، اسکولوں اور اسپورٹس ہالز کو عوام کے لیے کھول دیا تاکہ وہ عارضی پناہ لے سکیں۔ متعدد افراد نے رات کھلے آسمان تلے گزاری کیونکہ وقفے وقفے سے آنے والے جھٹکوں کا سلسلہ جاری رہا۔
یہ چند ماہ کے اندر صندرجی میں آنے والا دوسرا بڑا زلزلہ ہے۔ اس سے قبل اگست میں بھی اسی شدت کا زلزلہ اسی علاقے میں آیا تھا جس سے اس خطے کی زلزلہ زدہ کمزوریوں پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین نے شہریوں کو محتاط رہنے اور حفاظتی اقدامات پر عمل کرنے کی ہدایت کی ہے کیونکہ آئندہ دنوں میں مزید جھٹکوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
پاکستان کے نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار نے ترکی کی حکومت اور عوام سے اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان متاثرہ علاقوں میں امداد اور بحالی کے کاموں میں مدد کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے اس موقع پر پاکستان اور ترکی کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کو ایک بار پھر اجاگر کیا۔
ترک حکام نے کہا ہے کہ نقصان کا تخمینہ لگانے کا عمل جاری ہے اور متاثرہ شہریوں کو فوری امداد فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وہ ایک بار پھر قدرتی آفت کے اثرات سے سنبھل سکیں۔