کراچی — پاکستان کی فضائی صنعت کے لیے ایک اہم پیش رفت کے طور پر ایئر سیال نے برطانیہ کے لیے براہِ راست پروازیں شروع کرنے کی اجازت حاصل کرنے کے لیے درخواست جمع کروا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، ایئر لائن نے لندن، مانچسٹر اور برمنگھم کے لیے پروازیں چلانے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانوی سول ایوی ایشن اتھارٹی (CAA) نے پاکستانی فضائی کمپنیوں پر عائد پانچ سالہ پابندی ختم کرتے ہوئے انہیں دوبارہ برطانوی فضائی حدود میں پروازوں کی اجازت دے دی ہے۔
ایئر سیال سے قبل پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (PIA) اور ایئربلیو کو پہلے ہی برطانیہ کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کی منظوری مل چکی ہے۔ قومی فضائی کمپنی پی آئی اے 25 اکتوبر سے اسلام آباد اور مانچسٹر کے درمیان ہفتے میں دو پروازیں شروع کرے گی — جو تقریباً چار سال بعد اس روٹ پر اس کی واپسی ہوگی۔
ماہرینِ ہوا بازی کے مطابق، ایئر سیال کا یہ اقدام پاکستان کے فضائی شعبے میں نئی جان ڈالنے اور مقابلے کو فروغ دینے کی علامت ہے۔ ایئر سیال، جس نے 2020 کے آخر میں اپنے آپریشنز کا آغاز کیا تھا، نے قلیل مدت میں اپنی اعلیٰ سروس اور اندرونِ ملک نیٹ ورک کے باعث ایک اچھی شہرت حاصل کی ہے۔ برطانیہ کے لیے پروازوں کی اجازت اس کی بین الاقوامی سطح پر پہلی بڑی توسیع قرار دی جا رہی ہے۔
پاکستانی ایئر لائنز کے لیے برطانیہ کے راستے کھلنا فضائی صنعت کے لیے ایک نیا موڑ سمجھا جا رہا ہے، جو گزشتہ چند برسوں سے حفاظتی اور سرٹیفکیشن کے مسائل کا سامنا کر رہی تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مزید پاکستانی فضائی کمپنیاں برطانوی مارکیٹ میں داخل ہوئیں تو اس سے نہ صرف مسافروں کو سہولت ملے گی بلکہ پاکستان کی ساکھ بھی عالمی فضائی نقشے پر بہتر ہوگی۔