68.7 ارب روپے مالیت کا کراچی-لاہور موٹروے منصوبہ ای سی این ای سی کو بھجوا دیا گیا

اسلام آباد:
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیرصدارت جمعرات کو ہونے والے سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) کے اجلاس میں تین ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی گئی جبکہ چار بڑے منصوبوں کو مزید جائزے اور حتمی منظوری کے لیے ایگزیکٹو کمیٹی آف نیشنل اکنامک کونسل (ای سی این ای سی) کو بھیج دیا گیا۔

اہم منصوبوں میں سے ایک کراچی-لاہور موٹروے (کے ایل ایم) کے لیے زمین کے حصول، متاثرہ جائیدادوں کے معاوضے اور یوٹیلیٹیز کی منتقلی کا ہے، جس کی لاگت 68.7 ارب روپے رکھی گئی ہے۔ یہ منصوبہ 959 کلومیٹر طویل حصے پر محیط ہے، تاہم اس میں ایم-9 کے 136 کلومیٹر اور ایم-4 کے 57 کلومیٹر شامل نہیں ہیں کیونکہ یہ سیکشن پہلے ہی مکمل ہو چکے ہیں۔

اجلاس میں “ایکشن ٹو اسٹرینتھن پرفارمنس فار انکلوسِو اینڈ ریسپانسیو ایجوکیشن پروگرام (ٹی اے کمپوننٹ)” نامی تعلیمی منصوبے کی بھی منظوری دی گئی جس کی ترمیم شدہ لاگت ایک ارب 38 کروڑ روپے ہے۔

صحت کے شعبے میں ایک اہم منصوبہ “نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ، لاہور” بھی ای سی این ای سی کو بھجوایا گیا، جس پر لاگت کا تخمینہ 74.9 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ یہ منصوبہ پنجاب کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کے تحت مکمل کیا جائے گا۔

توانائی کے شعبے میں ہارپو ہائیڈرو پاور منصوبہ (34.5 میگاواٹ) کو نظرثانی شدہ لاگت 34.3 ارب روپے کے ساتھ ای سی این ای سی کو بھیج دیا گیا۔

ٹرانسپورٹ و کمیونیکیشن کے شعبے میں دو منصوبے آگے بڑھائے گئے۔ ان میں سے ایک شاہدرہ (این-5) پر امامیہ کالونی ریلوے کراسنگ پر آٹھ لینز کے اوور ہیڈ برج کی تعمیر ہے، جس کی لاگت 4.67 ارب روپے ہے اور جسے سی ڈی ڈبلیو پی نے منظور کر لیا۔ دوسرا بڑا منصوبہ موٹروے سے متعلق زمین کے حصول اور یوٹیلیٹیز کی منتقلی کا ہے، جسے مزید منظوری کے لیے ای سی این ای سی کو بھجوایا گیا۔

اسی طرح ایک اور اہم اسکیم بلوچستان واٹر ریسورس ڈویلپمنٹ سیکٹر پروجیکٹ (بی ڈبلیو آر ڈی ایس پی) ہے، جو ژوب اور مُولا دریا بیسن پر مشتمل ہے۔ اس کی ترمیم شدہ لاگت 49.9 ارب روپے ہے اور اسے بھی ای سی این ای سی کو بھیج دیا گیا ہے۔

مزید برآں، اجلاس میں پانچ منصوبوں کے لیے بین الاقوامی فنڈنگ کے حصول کی بھی منظوری دی گئی۔ ان میں تین منصوبے بلوچستان کے زرعی شعبے سے متعلق ہیں جن کا مقصد صوبے میں پانی اور وسائل کے بہتر انتظام کو یقینی بنانا ہے۔

More From Author

سیلاب متاثرین کو بجلی بلوں میں ریلیف دینے کیلئے حکومت کا آئی ایم ایف سے رجوع

سمندری پانی کی یلغار سے سندھ کی ماہی گیر برادری بے گھر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے