شاہراہیں کسی حد تک بحال، لیکن اندرونِ شہر تباہی کا منظر پیش کرنے لگا
کراچی: شہرِ قائد کا کمزور بلدیاتی ڈھانچہ ایک ہی مون سون کی بارش سے بری طرح بے نقاب ہو گیا۔ بارش تھمنے کے بعد، اندرونِ شہر کی گلیاں اور محلے گندے، ٹھہرے ہوئے پانی میں ڈوب گئے۔ گٹر اُبل پڑے، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئیں، اور شہری آمد و رفت کے لیے بے یار و مددگار رہ گئے — اور غصے سے بھرے ہوئے بھی۔
بند گلیوں سے لے کر زمین میں دھنسنے والی سڑکوں تک، ہر منظر اس حقیقت کو بے نقاب کر رہا تھا کہ کراچی کا شہری نظام ایک عرصے سے زوال پذیر ہے۔ شہر کے 25 ٹاؤنز میں سے کوئی ایک بھی صورتحال سے فوری نمٹنے کی پوزیشن میں نظر نہیں آیا۔ کئی علاقوں میں بارش کے پانی میں تیرتے کوڑے کے ڈھیر سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ (SSWMB) کی ناقص کارکردگی پر ایک اور سوالیہ نشان بن گئے ہیں۔
اگرچہ شاہراہِ فیصل اور یونیورسٹی روڈ جیسی مرکزی سڑکیں کسی حد تک قابلِ استعمال رہیں، لیکن اصل تباہی ان علاقوں میں دیکھی گئی جہاں عام لوگ بستے ہیں — اندرونِ شہر کی گلیاں۔ کورنگی کے قیوم آباد میں سڑک کے حصے مکمل طور پر بیٹھ گئے۔ اسی طرح کی صورتحال شاہ فیصل کالونی، محمودآباد، منظور کالونی، ایڈمن سوسائٹی، اولڈ سٹی ایریا، گلشنِ اقبال، نیو کراچی، نارتھ کراچی، سرجانی، بلدیہ اور اورنگی ٹاؤن میں دیکھی گئی، جہاں گلیاں اس قدر تباہ ہو چکی ہیں کہ گاڑی تو کیا، پیدل چلنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔
گلبرگ، ناظم آباد اور ملیر کے کچھ حصے کوڑے کے ڈھیروں سے اٹے پڑے ہیں، جس نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ مون سون کا سلسلہ ستمبر تک جاری رہنے کی پیش گوئی کے ساتھ، شہری پریشان ہیں کہ کہیں یہ شروعات نہ ہو — اور حکومت اب بھی خوابِ غفلت میں ہے۔
ماڈل کالونی: ایک نظام کی ناکامی کی جیتی جاگتی مثال
کراچی کے بلدیاتی زوال کی سب سے نمایاں مثال ماڈل کالونی کی لیاقت علی خان روڈ ہے۔ کبھی یہ شاہراہ علاقے کی اہم ترین سڑک ہوا کرتی تھی، آج ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر گڑھوں، کیچڑ اور بدبو کا مرکز بن چکی ہے۔
یہ تباہی صرف حالیہ بارشوں کا نتیجہ نہیں — سالہا سال کی غفلت، سرکاری اداروں کے درمیان ہم آہنگی کی کمی، اور ترقیاتی کاموں میں تاخیر نے اس سڑک کو کھنڈر بنا دیا ہے۔ حال ہی میں سوئی سدرن گیس کمپنی نے یہاں پائپ لائن کی تنصیب کے لیے کھدائی کی، جس کے بعد سڑک کا ایک حصہ زمین میں دھنس گیا۔ اس پر مستزاد، نکاسی آب کا نظام بھی جواب دے گیا، جس سے پوری سڑک گندے پانی میں ڈوب گئی۔
ایک مقامی رہائشی نے شکوہ کیا: “یہ کوئی نئی بات نہیں۔ ہر سال ایک بارش آتی ہے اور ہماری سڑکیں بہہ جاتی ہیں۔ کوئی پوچھنے والا نہیں، کوئی جواب دہ نہیں۔” شہر میں مزید بارشیں متوقع ہیں، اور شہری خوفزدہ ہیں کہ یہ صرف ابتدا ہے۔ ان کے لیے اب کراچی کی زبوں حالی کوئی وقتی پریشانی نہیں، بلکہ ایک ایسی سنگین حقیقت ہے جو ہر بارش کے ساتھ مزید کھل کر سامنے آ رہی ہے