پاکستان کا برآمدی فیس میں 50 فیصد کمی کا اعلان، پورٹ قاسم پر لاگو — تجارت کو فروغ دینے کی کوشش

دبئی، جون 2025 — حکومتِ پاکستان نے برآمدات کو فروغ دینے اور کاروباری طبقے کو ریلیف دینے کے لیے کراچی کے پورٹ قاسم پر برآمدی چارجز میں 50 فیصد کمی کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری کی سربراہی میں کیے گئے اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہے، جس کا انکشاف حالیہ اجلاس میں کیا گیا۔

یہ اقدام پورٹ قاسم اتھارٹی کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے اور اس کا بنیادی مقصد پاکستانی برآمدات کو زیادہ مسابقتی بنانا اور مقامی کاروباری افراد کے لیے نئی راہیں کھولنا ہے۔

وزیر چوہدری نے کہا:
"بحری شعبے میں حکومتی اصلاحات، جن میں پورٹ قاسم پر چارجز میں کمی شامل ہے، اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت کاروباری برادری کی مکمل حمایت، تجارتی سہولتوں میں بہتری، اور ساحلی علاقوں میں معاشی ترقی کے لیے سنجیدہ ہے۔”


پورٹ قاسم: معیشت کی شہ رگ

پورٹ قاسم، کراچی کے بعد پاکستان کی دوسری بڑی بندرگاہ ہے، جو ملک کی مجموعی درآمدات و برآمدات کا 52 فیصد حصہ سنبھالتی ہے۔ 1973 سے فعال یہ بندرگاہ کراچی جیسے صنعتی شہروں کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔

برآمدی چارجز میں 50 فیصد کمی سے نہ صرف لاگت میں خاطر خواہ کمی آئے گی بلکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے بین الاقوامی منڈیوں میں قدم جمانا آسان ہوگا۔

مثال کے طور پر، رواں سال کے آغاز میں ایک 20 فٹ کنٹینر میں خوراک برآمد کرنے پر تقریباً 10,580 روپے چارجز لگتے تھے، جب کہ 40 فٹ کنٹینر پر 14,430 روپے تک لاگت آتی تھی۔ اب یہ اخراجات آدھے ہو جائیں گے۔


ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ ترقی کا ویژن

معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ، وزارتِ بحری امور ماحولیاتی پائیداری کو بھی ترجیح دے رہی ہے۔ وزیر چوہدری نے مستقبل میں شروع ہونے والے گرین شپنگ اقدامات کا ذکر کیا جو بندرگاہوں سے جڑے ماحول پر منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے ہوں گے۔

پورٹ قاسم چونکہ سندھ ڈیلٹا کے قریب واقع ہے، جہاں دنیا کے بڑے مینگروو جنگلات میں سے ایک موجود ہے، اس لیے ماحول دوست پالیسیوں کا نفاذ نہایت اہم ہے۔

وزیر چوہدری کے مطابق، "وزارتِ بحری امور ساحلی وسائل سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے جامع اصلاحات پر کام کر رہی ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ یہ تمام کوششیں وزیرِ اعظم کے اعلان کردہ "بلیو اکانومی” وژن کا حصہ ہیں — جس کا مقصد ماحول اور معیشت کے درمیان توازن پیدا کرتے ہوئے ترقی کو ممکن بنانا ہے۔


آگے کا راستہ

پورٹ قاسم پر برآمدی فیس میں 50 فیصد کمی دراصل ایک بڑے قومی وژن کا ایک قدم ہے۔ اس وژن کا مقصد بحری شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنا، کاروبار کو سہولت دینا، ماحول دوست پالیسیوں کو فروغ دینا، اور پاکستان کو خطے میں ایک طاقتور تجارتی کھلاڑی کے طور پر کھڑا کرنا ہے۔

More From Author

ابوظہبی میں پاکستان کا ابو ظہبی فنڈ برائے ترقی کے ڈائریکٹر جنرل کو ہلالِ قائداعظم سے نوازنے کا اعزاز

ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی پر مارکیٹس کا ردعمل، تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے