اسلام آباد — پاکستان اس وقت تقریباً 20 سے 30 ارب ڈالر مالیت کے کرپٹو کرنسی اثاثے رکھتا ہے، لیکن حیران کن طور پر ملک میں ان کے لیے کوئی ضابطہ یا قانون موجود نہیں۔ یہ انکشاف سَسٹین ایبل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹیٹیوٹ (SDPI) کی سالانہ کانفرنس میں ماہرین نے کیا، جہاں انہوں نے فوری ضابطہ سازی کی ضرورت پر زور دیا۔
ماہرین کے مطابق، پاکستان میں کرپٹو ٹریڈنگ کا حجم بڑھ کر 300 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے جو کہ ملک کی موجودہ مجموعی قومی پیداوار (GDP) یعنی تقریباً 400 ارب ڈالر کے قریب ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کا کرپٹو مارکیٹ کس حد تک بڑا اور بے ضابطہ ہو چکا ہے۔
حالیہ برسوں میں لاکھوں پاکستانی شہری کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں، مگر خرید و فروخت یا ٹریڈنگ کے لیے کوئی باضابطہ قانون یا ریگولیشن موجود نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ غیر منظم صورتحال سائبر سیکیورٹی خدشات، مالی فراڈ اور سرمائے کے غیر قانونی اخراج جیسے خطرات کو جنم دے سکتی ہے۔
کانفرنس میں تجویز دی گئی کہ پاکستان کو کرپٹو کو قانونی حیثیت دینے میں احتیاط برتنی چاہیے اور پہلا قدم مرکزی بینک کی ڈیجیٹل کرنسی (CBDC) متعارف کرانا ہونا چاہیے۔ یہ ریاستی ضمانت یافتہ کرنسی نہ صرف بیرون ملک ترسیلات زر کے اخراجات کم کر سکتی ہے بلکہ ڈیجیٹل لین دین پر حکومتی نگرانی کو بھی بہتر بنائے گی۔
ظفر مسعود، جو پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے صدر ہیں، نے بتایا کہ اگر حکومت کرپٹو اثاثوں کو مؤثر انداز میں منظم کرے تو 20 سے 25 ارب ڈالر تک کا اقتصادی فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اس عمل میں عوامی اعتماد اور ممکنہ بداعتمادی کے مسائل کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔
ذرائع کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 2022 سے اپنی ڈیجیٹل کرنسی کا پروٹو ٹائپ تیار کرنا شروع کر دیا تھا، جس کے پائلٹ ٹیسٹ جلد متوقع ہیں۔ اگر یہ تجربہ کامیاب رہا تو یہ پاکستان کے ڈیجیٹل مالیاتی نظام میں ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔