اسلام آباد: گوگل نے پاکستان میں اپنا نیا اور انقلابی فیچر AI موڈ متعارف کرا دیا ہے، جو صارفین کو معلومات تلاش کرنے اور آن لائن دنیا کو دریافت کرنے کا ایک زیادہ ذہین اور انٹرایکٹو طریقہ فراہم کرتا ہے۔ یہ فیچر کمپنی کی Gemini 2.5 ٹیکنالوجی سے چلتا ہے، جو تلاش کو پہلے سے کہیں زیادہ تیز، فطری اور پیچیدہ سوالات کے لیے مؤثر بناتا ہے۔
سادہ تلاش سے اسمارٹ گفتگو تک
روایتی سرچ کے برعکس، جہاں صارفین کو اپنے سوالات کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنا پڑتا ہے، AI موڈ ایک ہی بار میں تفصیلی اور طویل سوالات کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ گوگل کے مطابق دنیا بھر میں صارفین اب پہلے کے مقابلے میں دو سے تین گنا زیادہ طویل سوالات لکھ رہے ہیں—چاہے وہ سفر کی منصوبہ بندی ہو، کوئی نئی مہارت سیکھنا ہو یا ایک ساتھ کئی مصنوعات کا موازنہ کرنا ہو۔
مثال کے طور پر، کوئی مسافر لکھ سکتا ہے: “ہنزہ کا پانچ روزہ ٹرپ پلان کریں جس میں سیر و تفریح، ایڈونچر اور مقامی کھانوں کا تجربہ شامل ہو۔” سسٹم نہ صرف مکمل پلان مہیا کرے گا بلکہ صارفین کو مزید سوال کرنے کی سہولت بھی دے گا، جیسے مشہور کھانوں کی جگہیں یا قریبی سرگرمیاں۔ یوں سرچ کا پورا عمل زیادہ ذاتی اور انٹرایکٹو بن جاتا ہے۔
ٹیکسٹ سے آگے: ملٹی موڈل سرچ تجربہ
AI موڈ صرف تحریری تلاش تک محدود نہیں۔ اب یہ فیچر آواز، تصاویر اور اپ لوڈ کی گئی امیجز کے ذریعے بھی تلاش کی سہولت دیتا ہے۔ گوگل لینس کے انضمام کے ساتھ، کوئی صارف تصویر کھینچ کر فوراً سوال کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، کراچی کا ایک خریدار اگر مصالحوں کی تصویر لے اور پوچھے کہ یہ پاکستانی کھانوں میں کیسے استعمال ہوتے ہیں، تو فوری طور پر جواب دستیاب ہوگا، ساتھ ہی قابلِ اعتماد ذرائع بھی فراہم کیے جائیں گے۔
یہ کیسے کام کرتا ہے؟
اس فیچر کے پیچھے ایک طریقہ کار ہے جسے Query Fan-Out کہا جاتا ہے۔ یہ صارف کے سوال کو کئی چھوٹے موضوعات میں تقسیم کر کے بیک وقت مختلف ذرائع سے معلومات اکٹھی کرتا ہے۔ اس طرح زیادہ درست اور جامع جوابات سامنے آتے ہیں۔ یہ جوابات گوگل کے Knowledge Graph، شاپنگ ڈیٹا اور رینکنگ سسٹمز کی مدد سے مزید مستحکم کیے جاتے ہیں۔ اگر کسی موقع پر سسٹم کو جواب پر یقین نہ ہو تو یہ روایتی سرچ نتائج پر واپس چلا جاتا ہے تاکہ معلومات کا معیار برقرار رہے۔
پاکستان میں دستیابی
AI موڈ اب پاکستان میں انگلش زبان میں دستیاب ہے اور صارفین اسے گوگل ایپ (اینڈرائیڈ اور آئی او ایس) کے ساتھ ساتھ ڈیسک ٹاپ اور موبائل براؤزر پر بھی استعمال کر سکتے ہیں۔
گوگل کے مطابق یہ نیا فیچر لوگوں کے انٹرنیٹ استعمال کرنے کے طریقے کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے صارفین کے لیے منصوبہ بندی کرنا، سیکھنا،