واشنگٹن ڈی سی | جولائی 2025
امریکی دارالحکومت میں ایک نجی عشائیے کے دوران، سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک غیرمتوقع تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران پانچ جنگی طیارے مار گرائے گئے۔ یہ بیان انہوں نے وائٹ ہاؤس میں ریپبلکن قانون سازوں سے گفتگو کے دوران دیا، جہاں انہوں نے پاہلگام واقعے کے بعد پیدا ہونے والے تناؤ کا حوالہ دیا۔
“حقیقتاً، طیارے فضا سے گرائے جا رہے تھے — پانچ، پانچ، چار یا پانچ، لیکن میرا خیال ہے کہ پانچ طیارے مار گرائے گئے تھے،” ٹرمپ نے کہا، تاہم یہ وضاحت نہیں کی کہ کون سے ملک کے طیارے گرائے گئے۔
یہ مختصر لیکن اہم بیان سفارتی حلقوں میں تیزی سے زیرِ بحث آ گیا، خصوصاً اس لیے کہ بھارت اور پاکستان نے اس تنازعے پر متضاد مؤقف اختیار کیا ہے۔
پاکستان کا دعویٰ، بھارت کا ردعمل
پاکستان نے باضابطہ طور پر دعویٰ کیا ہے کہ اس نے فضائی جھڑپوں میں بھارت کے پانچ جنگی طیارے مار گرائے۔ دوسری طرف بھارت نے صرف جزوی نقصانات کا اعتراف کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ ابتدائی دن میں نقصان کے بعد بھارتی فضائیہ نے حکمتِ عملی بدلی اور تین روزہ جھڑپوں کے اختتام سے پہلے برتری حاصل کرلی۔
یہ تین دن کی جھڑپیں شدید نوعیت کی تھیں، جن میں فضائی حملے، ڈرونز، میزائل، اور توپ خانے کا استعمال ہوا۔ دونوں جانب درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔ خاص طور پر 7 مئی کو بھارتی جنگی طیاروں کی جانب سے سرحد پار اہداف کو نشانہ بنانا ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا، جس کے بعد بھرپور جوابی کارروائیاں شروع ہو گئیں۔
جنگ بندی پر ٹرمپ کا کریڈٹ — اور بھارت کی ناراضگی
ٹرمپ نے اس جھڑپ کے خاتمے کے بعد 10 مئی کو اعلان کردہ جنگ بندی کا سہرا بارہا اپنے سر باندھا ہے، اور کہا کہ واشنگٹن کی سفارتی کوششوں سے حالات کو قابو میں لایا گیا۔ "ہم نے انہیں روک دیا۔ صورت حال بہت خراب ہو رہی تھی — واقعی بہت خراب،” انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا۔
تاہم بھارت نے ان دعوؤں کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ جنگ بندی براہِ راست نئی دہلی اور اسلام آباد کے درمیان رابطے سے ممکن ہوئی، کسی تیسرے فریق کی مداخلت کے بغیر۔ بھارت کا دیرینہ مؤقف ہے کہ پاکستان سے متعلق تمام معاملات دوطرفہ نوعیت کے ہیں اور بین الاقوامی مداخلت ناقابلِ قبول ہے۔
پرانا تنازع، نیا باب
پاہلگام میں اپریل کے حملے، جس میں 26 سیکیورٹی اہلکار مارے گئے، نے حالیہ کشیدگی کو جنم دیا۔ بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان میں موجود عسکریت پسندوں پر عائد کیا، جب کہ اسلام آباد نے کسی بھی قسم کی مداخلت سے انکار کرتے ہوئے غیرجانب دار تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
امریکہ نے اس حملے کی مذمت تو کی، لیکن پاکستان کو براہِ راست موردِ الزام ٹھہرانے سے گریز کیا۔ یہ واشنگٹن کی بھارت اور پاکستان دونوں سے اہم لیکن مختلف نوعیت کے تعلقات کی جھلک ہے: بھارت امریکا کا انڈو-پیسیفک خطے میں چین کے اثر و رسوخ کے خلاف اہم شراکت دار ہے، جبکہ پاکستان ایک دیرینہ سیکیورٹی اتحادی کی حیثیت رکھتا ہے۔
وسیع تر منظرنامہ
ٹرمپ کا یہ مبہم اور غیر مصدقہ دعویٰ کہ پانچ طیارے مار گرائے گئے، بظاہر ایک سیاسی بیان معلوم ہوتا ہے، کیونکہ نہ تو امریکی محکمہ دفاع اور نہ ہی کسی آزاد ذریعے نے اس کی تصدیق کی ہے۔ تاہم، یہ بات ضرور اجاگر ہوتی ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کس قدر نازک اور خطرناک شکل اختیار کر سکتی ہے — جہاں ایک واقعہ ایک مکمل جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔
اگرچہ مئی میں ہونے والی جنگ بندی سے خطہ وقتی طور پر سکون میں ہے، لیکن تاریخ نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ یہ امن انتہائی نازک ہے، جو کبھی بھی بکھر سکتا ہے — خواہ وہ سیاست کی ایک چال ہو، یا میڈیا کا شور۔ جنوبی ایشیا کی یہ پیچیدہ صورتحال عالمی برادری کی مسلسل توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ ابھی کے لیے دونوں ممالک پیچھے ہٹے نظر آتے ہیں۔ لیکن یہ خاموشی کب تک برقرار رہتی ہے؟ یہ سوال بدستور کھلا ہے