وزیراعظم کا عوام کیلئے بڑا قدم: ’اپنا میٹر، اپنی ریڈنگ‘ ایپ کا اجرا

وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار کے روز "اپنا میٹر، اپنی ریڈنگ” کے نام سے ایک نئی موبائل ایپلیکیشن کا باضابطہ افتتاح کیا، جس کے ذریعے بجلی کے صارفین اب خود اپنے میٹر کی ریڈنگ جمع کرا سکیں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام بجلی کے نظام میں شفافیت لانے اور صارفین کو بااختیار بنانے کی جانب ایک “انقلابی قدم” ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اس ایپ کا مقصد آہستہ آہستہ بجلی کے محکمے کے میٹر ریڈرز پر انحصار ختم کرنا ہے، جن پر برسوں سے اووربلنگ اور غلط ریڈنگ کے الزامات لگتے رہے ہیں۔

"ہم نے بجلی کے شعبے میں اصلاحات سنجیدگی سے کی ہیں۔ بورڈز میں میرٹ پر تقرریاں کیں اور بدعنوان مافیا کے خلاف کارروائی کی۔ یہ ایپ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جو بجلی کے نظام کو عوام کے کنٹرول میں دے گی،” وزیراعظم نے کہا۔

یہ ایپ جو پانچ علاقائی زبانوں میں دستیاب ہے، صارفین کو مخصوص تاریخ پر اپنے میٹر کی تصویر لے کر اپ لوڈ کرنے کی سہولت دیتی ہے۔ جو ریڈنگ صارفین فراہم کریں گے، وہی ماہانہ بل کی بنیاد بنے گی — اور کمپنی کے بعد میں لی گئی ریڈنگ کو نظرانداز کر دیا جائے گا۔

شمسی توانائی کی حمایت، پی ٹی وی فیس ختم

وزیراعظم نے بجلی کے بلوں میں سے 35 روپے ماہانہ پاکستان ٹیلی ویژن (PTV) فیس ختم کرنے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے سخت مذاکرات کے بعد بجلی کی قیمتوں میں فی یونٹ 7.50 روپے کمی کی، اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہوتے ہی عوام کو فائدہ پہنچایا گیا۔

تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ پاور سیکٹر کو سب سے بڑا مسئلہ اب بھی بجلی چوری ہے، جس سے سالانہ 500 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ "ہم اب خاموش نہیں بیٹھیں گے، یہ ایپ ان چند ہتھیاروں میں سے ایک ہے جو ہم عوام کو دے رہے ہیں تاکہ وہ خود نظام کی نگرانی کریں،” وزیراعظم نے کہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت شمسی توانائی (سولر پاور) کی ہر ممکن حمایت کرے گی کیونکہ یہ سب سے سستی اور پائیدار توانائی ہے۔ "پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں سولر پاور کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ہم اس رجحان کو مزید آگے لے جانا چاہتے ہیں،” انہوں نے کہا۔

’صارف کو اختیار دینا ہے‘

وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس ایپ کا بنیادی مقصد صارف کو میٹر ریڈنگ کی ذمہ داری دینا ہے تاکہ نظام میں شفافیت آئے۔

"ہم جانتے ہیں کہ وہ صارفین جو 100 یونٹس سے کم بجلی استعمال کرتے ہیں، انہیں اکثر تاخیر یا غلط ریڈنگ کی وجہ سے زیادہ بلز موصول ہوتے ہیں۔ گزشتہ سال ہم نے 10 ارب روپے کی اووربلنگ صارفین کو واپس کی،” لغاری نے بتایا۔ "اب یہ ایپ ان غلطیوں کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔”

پاور ڈویژن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ صرف ایک تکنیکی فیچر نہیں بلکہ ایک گورننس ریفارم ہے۔ "اس نظام سے اب صارف صرف بل دیکھنے والے نہیں بلکہ خود ریڈنگ کا محافظ بن جائے گا۔”

محکمے نے واضح کیا کہ اگر صارف وقت پر ریڈنگ دے دے، تو بعد میں لی گئی کوئی بھی ریڈنگ قابلِ قبول نہیں ہوگی۔

آگے کیا ہوگا؟

ایپ کے اجراء کے ساتھ ہی حکومت نے تمام بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ صارفین میں آگاہی پیدا کریں اور انہیں ایپ کے استعمال کی مکمل رہنمائی فراہم کریں۔ فیلڈ عملے کو بھی یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ صارف کی فراہم کردہ ریڈنگ کو تسلیم کریں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ محض ایک ایپ نہیں، بلکہ ایک سوچ کی تبدیلی ہے — جس میں صارف نہ صرف نظام کا حصہ ہے بلکہ اسے بہتر بنانے میں ایک کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

 

More From Author

مون سون کی تباہ کاریاں: ملک بھر میں ہلاکتوں کی تعداد 45 سے تجاوز کر گئی

آئرلینڈ کا تاریخی قدم: اسرائیلی بستسے تجارتی روابط پر پابندی لگانے والا پہلا یورپی ملک بن گیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے